بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
سجدہ تلاوت کے بعد سورت فاتحہ شروع کرنا
سوال
ایک امام صاحب نے سجدہ تلاوت سے اٹھنے کے بعد آگے سورت پڑھنے کے بجائے سورت فاتحہ پڑھی پھر سورت شروع کی تو کیا اس پر سجدہ سہوہ لازم ہے یا نہیں؟
جواب
فرض کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ کو مسلسل دو بار پڑھنے سے سجدہ سہو واجب ہوتاہے، لیکن اگر کسی نے ایک بار سورت فاتحہ پڑھی، پھر سورت پڑھی اور پھر فاتحہ پڑھا تو اس سے سجد سہوہ لازم نہیں ہوتا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر امام صاحب نے سجدہ تلاوت سے اٹھنے کے بعد سورت فاتحہ پڑھی، پھر سورت شروع کی تو اس سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔
ولو كرر الفاتحة في الأخريين لا سهو، وفي الأوليين متواليا عليه السهو، لا إن فصل بينهما بالسورة للزوم تأخير الواجب وهو السورة في الأول لا الثاني، إذ ليس الركوع واجبا بأثر السورة، فإنه لو جمع بين سور بعد الفاتحة لم يمتنع، ولا يجب عليه شيء بفعل مثل ذلك في الأخريين لأنهما محل القراءة مطلقا، وأصله أن القراءة ليست واجبة فيهما فلا تتقدر بقدر يجب بعده الركوع بل يسن ذلك.( فتح القدير، باب سجود السهو، ج:1، ص: 503)