بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
تعلیق طلاق سے رجوع کرنا
سوال
ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا پانی لاؤ تو بیوی نے انکار کیا تو میں نے بیوی سے کہا کہ آج کے بعد تم اپنی بہن کے گھر نہیں جاؤگی اگر گئی تو تجھے طلا ق ہوگی اور پھر ایک ہفتے بعد میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس وقت میں غصہ میں تھا،لہٰذا تم جاسکتی ہوتو کیا طلاق کو معلق کرنے کے بعد رجوع کرنا شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہےکہ اگر طلاق کو کسی کام کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے موجودہونے کی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی،اور شوہر کا طلاق معلق کرنے کے بعد پھر اس تعلیق کو ختم کرنا معتبر نہیں۔
لہذاصورت مسئولہ میں اگر شوہر نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ ایک بار کہے ہوں کہ "اگر تم اپنی بہن کے گھر چلی گئی تو تجھے طلاق ہوگی"، تواس کے بعد اگر عورت بہن کے گھر جائے گی تو ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اور تعلیق طلاق سے رجوع کا اعتبار نہیں۔
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق"(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:488)
"وإذا طلق الرجل إمراته تطلیقة رجعیة او تطلیقتین فله أن یراجعها فی عدتها"۔(الهداية،کتاب الطلاق، ج:3، ص:394)