بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
حرام چیز غیر مسلم کو دینا
سوال
ایک شخص نے مجھے کوئی چیز ہدیہ کی جب دیکھا اس میں حرام چیز تھی،مثلاًشراب تھا تو کیا یہ حرام چیزکسی غیر مسلم کو دے سکتا ہوں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی مسلمان حرام چیز کامالک بن جائےتو اس کے لیے ضروری ہے کہ اگرہو سکےتو اس کی ماہیت تبدیل کرکے اس سے حلال چیز بنائے،مثلا کوئی شراب کا مالک بنے تو اس سے سرکہ بنائے،لیکن اگر ماہیت تبدیل کرنا ممکن نہ ہو تو ضائع کردے۔
صورت مسئولہ کے مطابق سائل کو جوحرام چیز دی گئی ہے، اگر اس کی ماہیت حلال چیزمیں تبدیل کرنے کا کوئی طریقہ ممکن ہو توتبدیل کرےورنہ اس کو ضائع کرے ،کسی غیر مسلم کو دینا جائز نہیں ۔
"أمرالمسلم ببيع خمرأو خنزير۔۔۔قوله:ببيع خمرأو خنزير أي مملوكين له بأن أسلم عليهماومات قبل أن يزيلهما وله وارث مسلم فيرثهما۔۔۔فيجب عليه أن يخلل الخمر أو يريقها ويسيب الخنزير"۔(ردالمحتارمع الدر المختار، باب البیع الفاسد،مطلب في بيع الشرب؛ج:7،ص،280)
"لوأحرقت العذرةأوالروث فصار رماداأو مات الحمارفي المملحة فصارملحاأو وقع الروث في البئر فصارحمأة زالت النجاسة وطهرت۔۔۔حتیٰ لو أكلت الملح أو صلیٰ علي ذالك الرماد جاز"۔(منية المصلي و غنية المبتدي علیٰ صدرحلبةالمجلي وبغية المھتدی، فصل في الطهارة من الأنجاس،ج:1،ص:537)