بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قربانی واجب ہونے کےلئے چاندی کے نصاب میں کریٹ کی تعیین


سوال

 قربانی واجب ہونے کےلئے چاندی کے نصاب میں کتنے کریٹ والی چاندی کی قیمت کا اعتبار ہوگا ؟جو مالک کے پاس موجود ہے،یا   درمیانہ یا اعلیٰ درجہ؟

جواب

اگر کسی کے پاس چاندی ہو تو قربانی واجب ہونے کے لئے نصاب یعنی ساڑےباون  تولے کے برابر ہو نا  ضروری ہے،اور اگر اس کے پاس مال  ہو  تو اس پر قربانی تب واجب ہوگی جب وہ مال سونے یا چاندی میں سے کسی ایک کے نصاب تک پہنچ جائے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی کے پاس چاندی ہے تو اگر اس کا  وزن ساڑھے باون تولے ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی ،چاہے جس کریٹ کی بھی ہو،لیکن اگر  اس کے پاس مال ہے تو جس کریٹ  کی خرید و فروخت عموما مارکیٹ میں  ہوتی ،اس کا اعتبار ہوگا ،یعنی اس کی قیمت  کےبرابر مال ہو تو قربانی واجب ہوگی۔

 

نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل )(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الزکوة،ص: 224ج:3)

(قوله: مقوما بأحدهما) تكرار مع قوله من ذهب أو ورق؛ لأن ما معناها التخيير ومحل التخيير إذا استويا فقط.

أما إذا اختلفا قوم بالأنفع اهـ ح وقدم الشارح عند قوله وجاز دفع القيمة أنها تعتبر يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء كما في السوائم، ويقوم في البلد الذي المال فيه إلخ (قوله: تعين التقويم به) أي إذا كان يبلغ به نصابا.(رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الزكوة،ص:228،ج:3)


فتویٰ نمبر : 10043/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور