بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
نفاس میں نماز کا حکم
سوال
عند الاحناف جب عورت آدھا بچہ جنے یعنی اس کا سر سینہ تک باہر ہو اور نماز کا وقت ختم ہو رہا ہو تو کیاوہ عورت نماز پڑھےگی،حالانکہ صورت یہ ہے کہ بچہ جننے سے پہلے جو خون یا پانی کی طرح سفید مادہ نکلتاہے کیا وہ نفاس کے حکم میں ہے ؟اگر ہے تو کیا نفاس میں نماز جائز ہے ؟اگر نفاس نہیں ہے تو جو خون پہلے آتا ہے کیا وہ پاک ہے؟
جواب
واضح رہے کہ حالت نفاس میں عورت کے لیے نماز پڑھنا جائز نہیں اور نہ اس پر دوران نفاس قضا ء ہونے والی نمازوں کی قضاء ہے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق کسی عورت کا آدھا بچہ نکلا ہو تواس دوران جو خون بہہ رہا ہو وہ نفاس کا خون شمار ہوگا ،لہذااس دوران اس سےنماز ساقط ہے،تاہم اگر حاملہ عورت كو ولادت سے پہلے خون آئے ۔ تو وہ استحاضہ (بیماری)کاخون ہے ،جس میں نماز معاف نہیں ایسی عورت اس خون کے باوجود وضو کر کے نماز پڑھے گی ۔
أن يسقط عن الحائض والنفساء الصلاة فلا تقضي. هكذا في الكفاية إذا رأت المرأة الدم تترك الصلاة من أول ما رأت قال الفقيه وبه نأخذ. كذا في التتارخانية ناقلا عن النوازل وهو الصحيح. كذا في التبيين. إذا حاضت في الوقت أو نفست سقط فرضه بقي من الوقت ما يمكن أن تصلي فيه أو لا. هكذا في الذخيرة.( الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الفصل الرابع فى أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة،ج:١،ص:٣٨)
وما تراه في حال ولادتها قبل خروج الولد) يعني قبل خروج أكثره استحاضة حتى إنه تجب عليها الصلاة(الجوهرةالنيرة علي المختصر القدوري،ج:ص341
(ودم استحاضة) حكمه (كرعاف دائم) وقتا كاملا (لا يمنع صوما وصلاة) ولو نفلا (وجماعا) لحديث توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير. (الدر المختارمع ردالمحتار،كتاب الطهارة ،باب الحيض.ج: 1ص495 )