بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

كتے كی پيدائش کا واقعہ


سوال

کیا یہ سچ ہے کہ جس مٹی سے حضرت آدم ؑ کو پیداکیا جارہا تھا اس پر شیطان نے تھوکا تھا اور جس جگہ تھوکا تھا   وہ ناف تھااللہ تعالی نے اس جگہ کی مٹی سے کتے کو پیدا کیا ؟

جواب

مذکورہ بالا سوال میں کتے کی پیدائش کے حولے سے دریافت کیا گیا ہے روح البیان میں کتے کی پیدائش کاواقعہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ کتا انسان کا دشمن بھی ہے اور اس کے  ساتھ مانوس بھی ہے دشمنی کی وجہ یہ ہے جس مٹی سے حضرت آدم ؑ کی پیدا ئش ہورہی تھی اس پر شیطان نے تھوکا تو اللہ تعالی نے حضرت جبرئیل ؑ کو حکم دیا کہ اس سے کتا پیدا کیا جائے اور وہ جگہ ناف والی تھی ،چونکہ کتے کی پیدائش اس جگہ کی مٹی سے ہوئی تھی جس پر شیطان نے تھوکا تھا اس لیے وہ انسان کا دشمن ہے اور انسا ن کےساتھ  مانوس ہونے کی وجہ یہ کہ اس کی پیدائش حضرت آدم ؑ   کے ناف سے ہوئی تھی۔ یہ واقعہ اسرائیلیات میں سےہے اور  اسرئیلیات کا حکم یہ ہے کہ اگر شریعت محمدیہ میں اس کی تصدیق  ہوئی ہوتو ہم بھی اس کی تصدیق کریں گے اور اگر شریعت محمدیہ میں اس کی تکذیب  ہوئی ہو تو ہم بھی اس کی تکذیب کریں گے البتہ جن اسرائیلیات کی شریعت محمدیہ میں نہ تصدیق ہوئی ہو اور نہ تکذیب تو ہم بھی نہ تصدیق کریں گے اور نہ تکذیب بلکہ سکوت اختیار کریں گے،لہذا مذکورہ واقع کے بارے  میں سکوت اختیارکیا جائے۔

 

التي هى اعداء لآدم ولاولاده وأصله ان إبليس بصق على آدم حين كان طينا فوقع بصاقه على موضع سرته فأمر الله جبريل حتى قور ذلك الموضع فخلق من الفوارة ‌الكلب ولذا أنس بآدم وصار حاميا له.(روح البيان،تفسير سورة  الزخرف،ج:8،ص:385)

الإسرائيلية تذكر للاستشهاد لا للاعتضاد فإنها على ثلاثة أقسام: أحدها ما علمنا صحته مما بأيدينا مما يشهد له بالصدق فذاك صحيح والثاني ما علمنا كذبه بما عندنا مما يخالفه والثالث ما هو مسكوت عنه لا من هذا القبيل ولا من هذا القبيل فلا نؤمن به ولا نكذبه ويجوز حكايته لما تقدم، وغالب ذلك مما لا فائدة فيه تعود إلى أمر ديني.(تفسير ابن كثيىر،مقدمة المؤلف،ج:1،ص:7)


فتویٰ نمبر : 5884/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور