بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تکافل کی شرعی حیثیت


سوال

مروجہ اسلامک انشورنس یعنی تکافل کے بارے میں آپ کی کیارائے ہے؟ہمیں اس بارے میں مکمل وضاحت چاہیئے۔

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ عالمی معاشی نظام کا بیشتر حصہ غیرمسلموں کے ہاتھوں تشکیل شدہ ہے، اس لیے اس میں اسلامی اصولوں کی رعایت نہیں رکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں یہ نظام سود، قمار، غرر، اور بیع باطل وغیرہ کئی خرابیوں پر مشتمل ہے۔  چونکہ معیشت انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے ہے، اس لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے علمائے کرام اس کے متبادل کے طور پر اسلامی معاشی نظام کی تشکیل کی کوششیں کر رہے ہیں اور الحمد للہ بہت حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں، چنانچہ روایتی بنک کے متبادل کے طور پر اسلامک بنکنگ، اور انشورنس کے متبادل کے طور پرتکافل انہی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم ہماری معلومات کی حد تک تکافل کے حوالے سے ابھی تک وہ معیاری سسٹم وجود میں نہیں آیا ہے جس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ فتویٰ دیا جاسکے، اس لئےجب تک کوئی قانونی ضرورت نہ ہو تو اس سے احتراز کیا جائے، تاہم جہاں کہیں انشورنس قانونی ضرورت ہو تو اس صورت میں عام انشورنس کی بجائے اسلامی تکافل کو ترجیح دینی چاہیے۔

 

"عن النعمان بن بشير، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى، يوشك أن يواقعه."(صحيح البخاري، کتاب الإیمان، باب فضل من استبرأ لدينه، رقم الحدیث:52، ج:1، ص:23)


فتویٰ نمبر : 5878/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور