بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
قرعہ اندازی کے ذریعے عمرہ ویزہ دینا
سوال
میراٹریول ایجنسی کا کاروبار ہے اپنے کاروبار کو مشہور کرنے کے لیے میں نے عمر ہ ویزا دینے کے لیے قرعہ اندازی کا ارادہ کیا ہے جس کا طریقہ کار کچھ اس طرح ہو گا کہ ہر وہ شخص جو قرعہ اندازی میں حصہ لینا چاہتا ہے وہ ایک ہزار روپے شناختی کارڈ کاپی کے ساتھ جمع کرے گا ،جس کا نام ایک مہینے بعد یا کچھ عرصے بعد نکل آئے گا تو اس کو عمرہ ویزہ فری دیا جائے گا ،شریعت کے اعتبار سے یہ قرعہ اندازی ٹھیک ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ ہر وہ سکیم جس میں کئی لوگ پیسے ڈال کر اس میں شریک ہوں ، اور پھرکسی ایک شخص کا نام قرعہ اندازی سے نکل آئے اور اس کو انعام ملے باقی لوگوں کے پیسے ضائع ہو جائیں تو ایسی قرعہ اندازی شرعا جوے کے حکم میں داخل ہونے کی بنا پر جائز نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر قرعہ اندازی میں شریک ہو نےوالے ہر شخص سے ایک ہزار روپے لیئے جائیں، اورجس کا نام قرعہ اندازی میں نکل آئے اس کو عمرہ کا ویزا م مفت ملے جب کہ باقی سب لوگ محروم ہو جائیں تو یہ قرعہ اندازی جوا ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہےلہذا اس طرح کی قرعہ اندازی سکیم بنا کر کسی ایک شخص کو عمرہ پر بھیجنا جائز نہیں۔
القمار مشتق من القمر الذي يزداد وينقص، سمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويستفيد مال صاحبه، فيزداد مال كل واحد منهما مرة وينتقص أخرى، فإذا كان المال مشروطاً من الجانبين كان قماراً، والقمار حرام، ولأن فيه تعليق تمليك المال بالخطر، وإنه لا يجوز۔(المحيط البرهاني،کتاب الاستحسان والكراهية،ج:5ص:323)