بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
عاطشہ نام رکھنا
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے كے بارے ميں کہ عاطشہ نام رکھنا کیسا ہے؟
جواب
والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچے کے لیے اچھا نام تجویز کریں ،ہر وہ نام جسے حضورﷺ،صحابہ کرامؓ یا قرون ماضیہ میں علماوصلحاے اُمت نے استعمال کیا ہو ایسا نام رکھنا جائز اور مستحسن ہے۔اس کے علاوہ جو نام ایسا ہو کہ حضور ﷺ یا حضرات صحابہ کرامؓ یا علماءوصلحائے امت نے اُسے استعمال نہ کیا ہو اور نہ ہی کوئی اچھے معنی والا ہو، تو اس کو تبدیل کر کے اچھا نام رکھنا چاہیے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق عاطشہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مادہ ع،ط،ش ہے اور معنی ہے پیاس وتشنگی ،عاطشہ پیاسی ۔یہ نام معنی کے لحاظ سے مناسب نہیں لہذا اس سے اجتناب کیا جائے۔
عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم. (سنن أبي داود، باب في تغيير الأسماء، ج:2، ص985)
العطش ،ع ط ش، ضد الری.(لسان العرب،مادة:ع، ج:9، ص:267)