بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شوہر کا بیوی کے بارے ميں (میں نا رکھ دا اس کو )کہنا


سوال

 میرا اور بیوی کا جھگڑا اس بات پر ہوا کہ میں اپنے والد ،بھائی اور والدہ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھاکہ پاس میں میرا بچہ کھیل رہا تھا اچانک گر کر اسے چوٹ لگ گئی، میری بیوی  کچن میں تھی اندر آئی اور ہمیں گالیاں دینا شروع کر دیں کہ تم بچے کا خیال نہیں رکھ سکتے مجھے غصّہ آ گیا اس نے ہم سب کو گالیاں کیوں دیں میں نے اس پر ہاتھ اٹھا دیا اس نے بھی میرے اوپر ہاتھ اٹھا دیا اس وقت تو میرے بھائی اور والد نے مجھے روک لیا لیکن اگلے دن میں کام سے واپس آیا میں نے اسے کہا اپنے کپڑے بیگ میں ڈالو میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ کر آ ؤ ں ۔اس نے بھی کپڑے بیگ میں ڈالے اور جانے کے لیئے تیار ہو گئی ہم جانے لگے تو میری والدہ آ گئی انھوں نے مجھے منع کیا میں نے ہندکو زبان میں ان سے کہا (میں ناں رکھ دا اس کو) کیا اس سے طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟

جواب

طلاق کے واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ شوہر طلاق  کے صریح  یا کنائی الفاظ پر تلفظ کرے یا لکھ لے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  شوہر کا ماں کو مخاطب کرکے بیوی کو یہ کہنا کہ "میں ناں راکھ دا اس کو "(میں نہیں رکھتا اس کو ) اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی،کیونکہ یہ الفاظ نہ صراحتا ً طلاق پر دلالت کرنے والے ہیں اور نہ کنایۃً۔

 

(قوله ‌وركنه ‌لفظ ‌مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر...ولم يذكر لفظا صريحاولا كناية لا يقع عليه.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، مطلب طلاق الدور،ج:4، ص:431)

‌أما ‌الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: " أنت طالق " أو " أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة.(بدائع الصنائع،كتاب الطلاق، فصل فى شرط النية فى الكناية، ج:4، ص:216)

(‌كنايته) ‌عند ‌الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف)  الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب .(الدر المختار شرح تنوير الابصار، كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:4، ص:526)


فتویٰ نمبر : 6957/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور