بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیماری سے ٹھیک ہونے کے با وجود بیوی کا شوہر سےخلع کا مطالبہ کرنا


سوال

ایک شخص جو گزشتہ پانچ سالوں سے رشتہ ازدواجی سے منسلک ہے ،لیکن اس دوران وہ ایک مرتبہ بھی ہمبستری پر قادر نہیں ہوا،اور علاج باہم مشورے سے جاری رہا،لیکن اس کی بیوی اب خلع لینا چاہتی ہے ،ایک مستند ڈاکٹر نے سو فیصد گارنٹی دی ہے کہ آپریشن سے ایک ماہ بعد آپ جماع پر قادر ہو جائینگے،اب اگر صحیح ہونے کے بعد بھی بیوی  خلع لینے پر بضد ہو ،تو کیا شوہر اس سے حق مہر روک سکتا ہے؟اور دوسرا یہ کہ اس قسم کے مریض کو شریعت علاج کے لئے کتنی  مہلت دیتی ہے؟

جواب

اگر کوئی عورت اپنے شوہر کو عنین (نا مرد)پائے اور عدالت میں جاکر  مطالبہ کرے،کہ میرا شوہر جماع پر قادر نہیں لہذا  مجھے اس سے جدا کردیا جائے،تو قاضی اس کو ایک سال کی مہلت دے گا ،تاکہ وہ اس میں علاج کر سکے ،اگر اس دوران وہ ایک مرتبہ بھی جماع پر قادر ہوا تو  ٹھیک ،ورنہ قاضی ان کے درمیان جدائی کا فیصلہ کرےگا،اور ایک طلاق بائن واقع ہوگی،اور بیوی پوری  مہر کی مستحق ہوگی۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر شوہر  کے ٹھیک ہوجانے کے بعد بھی بیوی شوہر سے خلع کا مطالبہ کرے اور شوہر خلع دینا چاہے تو  بیوی سے کسی بھی چیز کا مطالبہ کر سکتا ہے،البتہ  جتنا مہر   بیوی کو دیا ہے اس سے زیادہ  کامطالبہ کرنا مکروہ ہے۔

 

إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.

إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.

وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان (الفتاوی الهندية،ص:577،ج:1)

ولو وجدته عنينا) هو من لا يصل إلى النساء لمرض أو كبر أو سح وهبانية (أو خصيا) لا ينتشر ذكره، فإن انتشر لم تخير وعليه فهو من عطف الخاص على العام لخفائه وإن كان بأو لان الفقهاء يتسامحون في ذلك نهر (أجل سنة) لاشتمالها على الفصول الاربعة، ولا عبرة بتأجيل غير قاضي البلدة (قمرية) بالاهلة على المذهب وهي ثلاثمائة وأربعة وخمسون يوما وبعض يوم،وقيل شمسية بالايام وهي أزيد بأحد عشر يوما، قيل به يفتى، ولو أجل في أثناء الشهر فبالايام إجماعا (ورمضان وأيام حيضها منها) وكذا حجه وغيبته (لا مدة) حجها وغيبتها و (مرضه ومرضها) مطلقا، به يفتی ويؤجل من وقت الخصومة ما لم يكن صبيا أو مريضا أو محرما، فبعد بلوغه وصحته وإحرامه، ولو مظاهرا لا يقدر على العتق أجل سنة وشهرين (فإن وطئ) مرة فبها (وإلا بانت بالتفريق) من القاضي إن أبى طلاقها (بطلبها) يتعلق بالجميع.(ردالمختارعلی الدر المختار،ص:169،ج:5)


فتویٰ نمبر : 6938/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور