بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

غیر مسلموں پر ان کا لباس بیچنا


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ انگریزی لباس انگریزوں کو فروخت کرنا کیساہےاور غیر مسلموں کے ملک میں لباس ہی ایسا پہنا جاتا ہےجوپہننا جائز نہیں ايسا لباس ایمازون وغیرہ پر فروخت کرنا کیسا ہے؟

جواب

جو چیز تغییر و تبدیل کے بغیر اپنی ذات کے اعتبار سے معصیت کا آلہ ہو تو اس کی خرید و فروخت سے اجتناب کرنا ضروری ہے اور اگر کوئی چیز ایسی ہو کہ اس کا استعمال جائز اور نا جائزدونوں طرح ہو سکتا ہو تو ایسی چیز کی خرید و فروخت شرعا جا ئز ہے اورنا جائزاستعمال کا گنا ہ استعمال کرنے والے کو ہو گا۔

 صورت مسؤلہ کے مطابق   اگر کسی کپڑے کو غیر شرعی طور پر سی لیا گیا ہو ،تو اجنبی کے سامنے استعمال اگر چہ جائز نہیں، لیکن میاں بیوی   ایک دوسرے کے سامنے خلوت میں ہر طرح کا لباس استعمال کرسکتے ہے اس لیے اس کپڑے کے بیچنے کی شرعا گنجا ئش ہے تا ہم جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ  

نا جائز طور پر استعمال کرے گا تو اس کو بیچنا کراہت سے خالی نہیں ۔

 

 مَا ‌قَامَتْ ‌الْمَعْصِيَةُ بِعَيْنِهِ يُكْرَه بَيْعُهُ تَحْرِيمًا وَإِلَّا فَتَنْزِيهًا۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الحظر والإباحة،ج:9،ص:561)

لَا ‌يُكْرَهُ ‌بَيْعُ ‌الْجَارِيَةِ الْمُغَنِّيَةِ وَالْكَبْشِ النَّطُوحِ وَالدِّيكِ الْمُقَاتِلِ وَالْحَمَامَةِ الطَّيَّارَةِ لِأَنَّهُ لَيْسَ عَيْنُهَا مُنْكَرًا وَإِنَّمَا الْمُنْكَرُ فِي اسْتِعْمَالِهِ الْمَحْظُورِ۔(تِبيين الحقائق،کتاب السير،باب البغاۃ،ج:4،ص:199)

بيع ‌الزنار ‌من ‌النصارى والقلنسوة من المجوس لا يكره وبيع المكعب المفضض من الرجل إذا علم أنه اشتراه للبس يكره۔   

( الفتاوى الهندية، کتاب البيوع،ج:3،ص:197) 


فتویٰ نمبر : 3571/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور