بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

روضہ مبارکہ یا خانہ کعبہ کی تصویر کو بوسہ دینا


سوال

روضہ مبارک یا خانہ کعبہ کے نقشہ کو بوسہ دینا کیسا ہے ۔میں نے ایک کتاب میں دیکھا اس میں تھانوی صاحب رحمہ اللّٰہ نے لکھا ہے کہ روضہ مبارک کے نقشہ کو بوسہ دینا خلاف سنت ہے۔ برائے مہربانی آپ بتادیں کیا اسی طرح ہے؟

جواب

واضح رہے کہ روضہ مبارکہ اور خانہ کعبہ کی تصویر اگرچہ اصل  کےمساوی  نہیں، لیکن چونکہ اصل کے ساتھ مشابہت اور مشاکلت کی وجہ سے ان کو  ایک نسبت حاصل ہے اس لیے اگر کوئی شخص  محبت  سے اس کا   ادب کرے اور محبت کی وجہ سے  بوسہ دے یا آنکھوں  پر لگائے تو اس میں ممانعت کی کوئی دلیل موجود نہیں، لہذا فی نفسہ ایسا کرنا مباح ہوگا، بشرطیکہ اس عمل کو مستقل عبادت نہ سمجھا جائے کیونکہ عبادت کے لیے ثبوت شرعی کا ہونا ضروری ہے۔

 

عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌إنما ‌الأعمال ‌بالنيات...أي صحة ما يقع من المكلف من قول أو فعل، أو كماله وترتيب الثواب عليه، لا يكون إلا حسب ما ينويه. و (النيات) جمع نية، وهي القصد وعزم القلب على أمر من الأمور.(صحيح البخارى، باب :كيف كان بدءالوحى الى رسول الله ، رقم الحديث :1)

الأمور بمقاصدهايعني: ‌أن ‌الحكم ‌الذي ‌يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر.(شرح المجلة، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة:2، ص:16)

‌لأن ‌الجهلة ‌يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه فمكروه... (قوله فمكروه) الظاهر أنها تحريمية لأنه يدخل في الدين ما ليس منه.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، ج:2، ص:598)


فتویٰ نمبر : 5861/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور