بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
رسول اللہ ﷺکے جسم اطہر کا سایہ
سوال
کیا رسول اللہ ﷺ کے جسم اطہر کا سایہ عام انسانوں کی طرح ہو تا تھا یا نہیں؟
جواب
رسول اللہ ﷺ کے جسم اطہر کا سایہ تھا جو زمین پر پڑتا تھا،یہی اصل ہے،بعض روایات میں سایہ نہ ہونے کا ذکر ملتا ہے لیکن وہ روایات ناقابل اعتبار ہیں ،اس لئے کہ صحیح اور معتبر روایات میں صاف الفاظ کے ساتھ آپ ﷺ کے جسم مبارک کا سایہ ہونا ثابت ہے،مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح ایک رویت موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے،سیدہ صفیہ کا اونٹ بیمار ہو گیا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس اضافی اونٹ تھا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ، صفیہ کا اونٹ بیمار ہوگیا ، اگرآپ اسے اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹ دے دو، زینب رضی اللہ عنہا نے کہا، میں اس یہودیہ کو اونٹ دے دوں؟ اس پر آپ ﷺنے انہیں ذوالحجہ اور محرم دو ماہ یا تین ماہ تک چھوڑے رکھا ان کے پاس آتے ہی نہ تھے،سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، میں مایوس ہوگئی، میں نے اپنی چارپائی وہاں سے ہٹا دی، کہتی ہیں:
فبينما أنا يوماً بنصف النهار اذا أنا بظلّ رسول الله صلى الله عليه وسلم مقبل.
"ایک دن دوپہر کے وقت میں نے اچانک رسول اللہ ﷺ کا سایہ مبارک سامنے سے آتے ہوئے دیکھا"۔
اس حدیث سے صراحتا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ ﷺ کے جسم مبارك كا سایہ تھا اور وہ زمین پر پڑتا تھا ۔
اس کے علاوہ ایک روايت میں آپ ﷺ کے جسم مبارک کا سایہ نہ ہونے کا ذکر ہے جس کو علامہ سیوطی ؒ نے الخصائص الکبرٰی میں ذکر کیا ہے۔ أخرج الحكيم الترمذي من طريق عبد الرحمن بن قيس الزعفراني عن عبد الملك بن عبد الله بن الوليد عن ذكوان ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يرى له ظل في شمس ولا قمر ولا أثر قضاء حاجة۔(الخصائص الکبرٰی،ج:1ص:68)
اس روایت کو نقل کرنے والے علامہ سیوطی ؒ اپنی دوسری تالیف "مناہل الصفا فی تخریج احادیث الشفا" میں فرماتے ہیں:
وأخرج الحكيم الترمذي في نوادر الأصول من طريق عبد الرحمن بن قيس وهو وضاع كذاب عن عبد الملك بن عبد الله بن الرائد وهو مجهول عن ذكوان أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يرى له ظل في شمس ولا قمر ولا أثر قضاء حاجة"
یعنی ذکوان کی اس روایت میں ایک راوی عبدالرحمن بن قیس وضاع اور کذاب ہے جبکہ دوسراراوی عبدالملک بن عبداللہ مجہول الحال ہے۔ لہذا یہ روایت قابل اعتبار نہیں اور صحیح و معتبر روایات کی روشنی میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے جسم مبارک کا سایہ موجود تھا ۔
عن عائشة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في سفر له، فاعتل بعير لصفية، وفي إبل زينب فضل، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن بعيرا لصفية اعتل، فلو أعطيتها بعيرا من إبلك". فقالت: أنا أعطي تلك اليهودية. قال: فتركها رسول الله صلى الله عليه وسلم ذا الحجة والمحرم، شهرين أو ثلاثة، لا يأتيها، قالت: حتى يئست منه وحولت سريري. قالت: فبينما أنا يوما بنصف النهار، إذا أنا بظل رسول الله صلى الله عليه وسلم مقبل۔(مسند أحمد، مسند الصديقة عائشة بنت الصديق رضي الله عنها،ج:7ص: 190)
فلما كان شهر ربيع الأول، دخل عليها، فرأت ظله، فقالت: إن هذا لظل رجل، وما يدخل علي النبي صلى الله عليه وسلم، فمن هذا؟ فدخل النبي صلى الله عليه وسلم۔(مسند أحمد، حديث صفية أم المؤمنين رضي الله تعالى عنها،ج:7ص:475)