بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

صدقات واجبہ میں تملیک کے متعلق قرض والی صورت کی وضاحت


سوال

 بعض حضرات نے صدقات واجبہ میں تملیک کے لیے قرض کی صورت بتائی ہے۔ اس کی تفصیل کیا ہے؟ کیا اس سے زکوۃ اداہوجائے گی یا نہیں؟

جواب

صدقاتِ واجبہ کی ادائیگی کے لیے تملیک بلاعوض ضروری ہے۔ اس لیے تملیک کیے بغیر مستحقین پر خرچ کردینے سے ذمہ فارغ نہیں ہوگا۔ تملیک کے لیے من جملہ دیگر جائز صورتوں کے، ایک صورت قرض کی بھی ہے، اس کی تفصیل یہ ہے:

معطیین یا ان کانمائندہ کسی مستحق کو ترغیب دے کراس بات پرآمادہ کرے، کہ وہ کسی سے قرض لے کرمدرسہ کے انتظامیہ کو صدقہ کردے، تاکہ وہ اس رقم کو مدرسہ اور طلبا کے مفاد میں خرچ کرے۔ پھرزکوۃ دینے والے خود یا ان کے وکیل صدقاتِ واجبہ کی رقم اس مستحق کو تملیکاً دے دیں اور وہ مالک بن کر اس سے قرض ادا کرے۔

 

ويشترط أن يكون الصرف (‌تمليكا) ‌لا ‌إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه).(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الزكوة ،باب مصرف الزكوة والعشر،ج:2،ص:344)


فتویٰ نمبر : 10028/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور