بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
طلاق مغلظہ کے تین سال گزرنے پر طلاق كو غير مؤثر سمجھ کر نکاح کرنا
سوال
ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین سال پہلے تین طلاقیں دی تھیں ،بیوی الگ گھرمیں بس رہی تھی اور وہ الگ گھر میں۔ اب اس کا کہنا ہے کہ کیااتنی مدت گزرنے کے بعد دوبارہ اس سے نکاح کر سکتا ہوں اور کیاوہ طلاق مدت گزرنے سے ختم ہو چکی؟
جواب
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دےدے تو بیوی اس پرحرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جاتی ہے ۔جس کے بعد دوسرے شخص سے باقاعدہ نکاح و ہمبستری اور پھر اس سے آزاد ہوئے بغیر اس عورت کا نکاح پہلے شوہر سے حلال نہیں چاہے طلاق ثلاثہ کے بعد جتنا بھی عرصہ گزر چکا ہو۔
صورت مسؤلہ کے مطابق جس نے اپنی بیوی کو تین سال پہلے تین طلاق دیں اور اب دوبارہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس عورت سے نکاح جائز نہیں تاہم اگروہ عورت کسی دوسرے سے نکاح اور ہمبستری کر لے اس کے بعد وہ دوسرا شوہر طلاق دے یا فوت ہو جائے تو عدت گزارنے کے بعد پہلا شوہر اس سےنکاح کر سکتا ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ۔ (البقرۃ: الایۃ 230)
عن عائشة قالت جاءت امرأة رفاعة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير وان ما معه مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة ؟لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك۔ (الصحیح لمسلم، کتاب النکاح، ج:1، ص:533)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها۔ (الھدایۃ، باب الرجعۃ، فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:2، ص: 409)