بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عید قربان سےدو تین دن پہلے بیوپاری کا چمڑے خریدنا


سوال

عید قربان کے موقع پر بیوپاری حضرات عید سے دو تین دن پہلے چمڑوں کے خریدنے کا معاملہ طے کرتے ہیں کہ چھوٹے ،بڑے ، درست اور خراب سب طے شدہ ریٹ پر ہونگے اور بیعانہ کے طور پر کچھ رقم بھی دے دیتے ہیں، تو کیا یہ بیع معدوم تو نہیں ہوگی اور شریعت  کی رو سے یہ بیع جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی اعتبار سے اس طرح  کی بیع جائز نہیں کہ جس میں عقد کے وقت نہ مبیع موجود ومتعین ہو اور نہ ہی ثمن ادا کیا جائے، حدیث شریف میں اس کو "بیع الکالی بالکالی"(ادھار کا ادھار سے بیع کرنا) کا نام دے کر ناجائز قرار دیا ہے، تاہم اگر کوئی آئندہ کے لیے عقد بیع کا صرف وعدہ کرے اور پھر جب مبیع موجود ومتعین ہو جائے تو اس وقت خرید وفروخت کا معاملہ کیا جائے تو اس طرح کرنا جائز ہے۔

صورت مسئولہ میں عید قربان کے موقع پر بیوپاری حضرات عید سے دو تین پہلے چمڑوں کے خریدنے کا جو معاملہ طے کرتے ہیں اگر اس سے مقصود محض خریداری کا وعدہ ہو اور پھر عید کے روز باقاعدہ ایجاب وقبول یا تعاطی کے ساتھ معاملہ طے کیا جائے تو ایسا کرنا جائز ہے، لیکن اگر مقصود باقاعدہ بیع ہو توبیع المعدوم کی وجہ سے یہ بیع جائز نہیں۔

 

عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن بيع الكالىء بالكالىء هو النسيئة بالنسيئة . (المستدرک للحاکم،2343)

(‌وما ‌لا ‌تصح) ‌إضافته (‌إلى ‌المستقبل) عشرة (البيع، وإجازته، وفسخه، والقسمة والشركة والهبة والنكاح والرجعة والصلح عن مال والإبراء عن الدين) لأنها تمليكات للحال فلا تضاف للاستقبال. (ردالمحتار على الدر المختار، مطلب ما يصح إضافته وما لا تصح، ج:5، ص:256)


فتویٰ نمبر : 3541/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور