بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دو طلاق رجعی کے بعد بیوی کو "اگر تم نے گھر سے باہر قدم نکالا تو جو تیسرا لفظ ہے وہ پورا ہو جائے گا" کہنا


سوال

میری شادی کو پانچ سال ہوگئے ہیں، شادی کے دوسال بعد میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی پھر رجوع کرلیاتھا، کچھ مہینوں بعد میں نے دوسری طلاق بھی دے دی پھر رجوع کرلیا۔ اب کچھ دنوں پہلے ہمارے بیچ لڑائی ہوگئی جس کے بعد وہ  اپنے باپ کے گھر جارہی تھی میں نے اس کو روکنے کے لئے کہہ دیا کہ اگر تم نے گھر سے باہر قدم نکالا تو جو تیسرا لفظ ہے وہ پورا ہوجائیگا۔ میرے دل میں طلاق کی نیت نہیں تھی بس روکنا مقصودتھا، لیکن وہ چلی گئی۔مجھے اب پوچھنا ہے کہ کیا یہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ میرے تین بچے ہیں بڑا بیٹا چار سال کا ہے اور چھوٹا دو سال کا اور ایک بیٹی تین ماہ کی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ اگر ایک شخص اپنی بیوی کو صریح الفاظ کے بجائے ایسے محتمل الفاظ کہے، جن میں طلاق اور طلاق کے علاوہ دوسرے مفہوم کا احتمال بھی ہو تو ایسے الفاظ کنایہ کہلاتے ہیں، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر ان کنائی الفاظ میں رد اور گالی کا احتمال نہ ہو تو حالت غضب ميں بغیر نیت کے بھی اس سے طلاق واقع ہو جائے گی۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگرواقعی شوہرنے اپنی بیوی کو لڑائی کے بعد یہ الفاظ "اگر تم نے گھر سے باہر قدم نکالا تو جو تیسرا لفظ ہے وہ پورا ہو جائیگا" کہے ہوں تو مذکورہ الفاظ کنائی ہیں جو حالت غضب میں بولے گئے ہیں اس لیے جب بھی شرط پائی جائے یعنی بیوی گھر سے باہر قدم نکالے تو طلاق واقع ہوگی اگرچہ شوہریہ کہے کہ طلاق کی نیت نہیں تھی۔

 

(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام۔۔۔والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب۔۔۔وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم۔( الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات، ج:1، ص:442)


فتویٰ نمبر : 6940/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور