بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
کسی حاجت کے لیے قرآن اور سورہ یٰسین کا ختم کرنا
سوال
میرے والد صاحب کا دوست اٹلی میں ہے تو میں بھی اٹلی جانا چاہتا ہوں تو اٹلی ویزہ کےلیے میں نے قرآن مجید کا ختم شروع کیا ہے روزانہ 10 رکوع کم وبیش پڑھتا ہوں اور اس کے ساتھ کیا میں صبح نماز کے بعد اٹلی ویزہ حاصل کرنے کی نیت سے سورہ یٰسین ایک بار روزانہ پڑھ سکتا ہوں کیا یہ دونوں عمل جائز ہیں یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کا بہت بڑا اجر ہے ۔ختم قرآن کسی مکان میں برکت ،بیمار کی صحت یابی ، میت کے ایصال ثواب کے لیے یا کسی دنیوی مقصد کے لیے ہو تو جائز ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سائل کا ویزے کے حصول کے لیے ختم قر آن یا سورہ یٰسین پڑھنا جائز ہے۔
عن عمران بن حصين ، أنه مر على قارئ يقرأ، ثم سأل فاسترجع، ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من قرأ القرآن فليسأل الله به؛ فإنه سيجيء أقوام يقرءون القرآن يسألون به الناس. (سنن الترمذي،باب،رقم الحديث:٢٩١٧)
عن عطاء بن أبي رباح، قال: بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قرأ يس في صدر النهار، قضيت حوائجه.( سنن الدارمي،كتاب فضائل القرآن،باب في فضل يس،رقم الحديث:٣٤٦١)
اختلف في الاستشفاء بالقرآن بأن يقرأ على المريض أو الملدوغ الفاتحة... قال رضي الله عنه: وعلى الجواز عمل الناس اليوم.( ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الحظروالإباحة،ج:٥،ص:٢٥٧)