بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا طریقہ
سوال
اگر کسی سے ایک یا چار پانچ الفاظ کفریہ صادر ہو گئے اور اس کو یاد بھی ہو ں اور اس نے ان الفاظ سے توبہ کی "یا اللہ آج تک جتنے بھی الفاظ کفریہ صادر ہو ئے ہیں سب سے توبہ کرتا ہوں "اور کلمہ پڑھ لیا اور اس کے بعد تجدید نکاح کرلیا تواب پوچھنا یہ ہے کہ جس طریقہ پر توبہ کی ہے وه کافی ہے اور نکاح بھی کیا وه درست ہے تجدید ایمان اور تجدید نکاح کاصحیح طریقہ بتادیجئے؟
جواب
واضح رہے کہ اپنےاختیار سے کفریہ کلمات ادا کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے،خواہ وہ کلمات ایک دفعہ کہے ہوں یا زیادہ مرتبہ، ایسے شخص کاایمان ختم ہو جاتا ہے اور اس کے ذمےلازم ہوتا ہے کہ فورا اپنے اسلام کی تجدید کرے ،نیز كوئی شادی شدہ مرد ایسا کلمہ کفر ادا کرے جس کی وجہ سے وہ ایمان سے نکل جائے تو اس کا نکاح بھی ٹوٹ جائے گا۔
صورت مسئولہ کےمطابق اگرکسی نے الفاظ کفریہ کہنےکے بعد توبہ کی ہو کلمہ شہادت پڑھا ہواورتجدید نکاح بھی کیا ہو تو وہ کافی ہے تجدید ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ سچے دل سے توبہ کرکے کلمہ شہادت زبان سے پڑھے اور دل سے اس کی تصدیق کرے، اور تجدید نکاح کا طریقہ یہ ہے کہ دوعاقل،بالغ، مسلمان مرد یا ایک مرد اوردوعورتوں کی موجودگی میں میاں بیوی ایجاب وقبول کرلیں اس سے دوبارہ ان کا نکاح منعقد ہوجائےگا۔
قال الله تعالی: (یاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا)۔(النسآء:135)
ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياط.( رد المحتار، على الدر المختار،باب المرتد،ج:4،ص:230)
النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول... ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين.(الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب النكاح،ج:1،ص:185)