بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

میت کے کپڑے اور زیور اتارنے کی وجہ سے لاش کا پھٹ جانا


سوال

اگر لاش پھولنے کی وجہ سے میت کے کپڑے اور زیور اتا رنامشکل ہو ،کہ اگر کپڑے اور زیور اتارنے کی کوشش کی جائے تو لاش پھٹ سکتی ہے، یا کوئی عضو جدا ہو سکتا ہے ،تو اس صورت میں کپڑے اور زیور اتارنا کیسا ہے ؟ نیز اگر یہ زیور غیر کی ملکیت ہو تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

جب کوئی مسلمان فوت ہوجائے تو اس کو غسل دینا واجب ہے،لہذا میت کو مسنون طریقے سے غسل دیا جائے گا،غسل دیتےوقت میت کے بدن سے کپڑے اتار ے جائیں گے،تاہم اگر کسی وجہ سے  میت  کا جسم پھول گیا ہواور کپڑے نکالنے کی وجہ سےمزید خراب ہونے کا اندیشہ ہو توکپڑے نکالے بغیرکپڑوںسمیت  میت کے بدن پر پانی بہایا جائے،نیز اگر میت کے جسم کے ساتھ ایسی کوئی چیز متعلق ہو جو اس کی ملکیت میں نہ ہو بلکہ کسی اور کی ملکیت ہو تواگر نکالنے میں عضو جدا ہونے کا خطرہ ہو تو اس کو چھوڑاجائے گا اور اس کے ترکہ سے قیمت ادا کی جائی گی۔

صورت مسؤلہ میں اگر واقعی کپڑے اتارنے کی وجہ سےلاش پھٹنے، اور یاکوئی عضو جداہونے کا اندیشہ ہو تو کپڑوں سمیت بھی غسل دینے کی گنجائش ہے،تاہم  زیورات  اگرکسی اور کے ہوں اور آسانی سے جداہوسکتے ہوں تو میت کے جسم سے نکالا جائے گا،البتہ اگر نکالتےوقت عضو جدا ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر میت کے ترکہ سے قیمت ادا کی جائی گی تاکہ میت کی بے حرمتی نہ ہو۔

 

"ولو كان الميّت متفسّخا يتعذّر مسحه ‌كفى ‌صبّ ‌الماء ‌عليه.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون:في الجنائز، الفصل الثاني في الغسل، ج:1، ص:219)

"رجل ‌ابتلع ‌درة رجل، فمات المبتلع، فإن ترك مالا كانت قيمة الدرة في تركته، وإن لم يترك مالا لا يشقّ بطنه؛لأنّ الشقّ حرام، وحرمة النفس أعظم من حرمة المال، وعليه قيمة الدرة؛لأنه استهلكها وهي ليست من ذوات الأمثال فكانت مضمونة بالقيمة، فإن ظهر له مال في الدنيا قضى منه وإلا فهومأخوذ به في الآخرة."(بدائع الصنائع، كتاب الاستحسان، ج:6، ص:517-518)


فتویٰ نمبر : 5849/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور