بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
عورت کی ملک میں گائے بکریاں ہوں جن کی مالیت نصاب کو پہنچے
سوال
اگر کسی شادی شدہ عورت کے پاس گائے اور کچھ بکریاں ہوں جن کا دودھ گھر کے سارے افراد استعمال کرتے ہیں اور اس کے پاس کچھ نقدپیسے اور سونا چاندی کے زیورات بھی ہوں ان سب کو ملا قربانی کے نصاب تک پہنچتا ہو تو اس پر قربانی لازم ہو گی یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ قربانی کے وجوب کی جملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ کسی کے پاس حوائج اصلیہ کے علاوہ نصاب کے بقدر زیورات یا مالیت یا ضرورت سے زائد سامان ہو اوران کی قیمت نصاب تک پہنچتی ہو تو ایسی صورت میں اس پر قربانی واجب ہو گی۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی عورت کی ملکیت میں زیورات اور کچھ نقد پیسوں کے علاوہ گائے اور بکریاں بھی ہوں جن کا دودھ گھر کے افراد استعمال کرتے ہوں تو یہ گائے اور بکریاں عورت کے حق میں ضرورت سے زائد شمار ہوں گے ،کیونکہ گھر کا خرچہ اور نان نفقہ مرد کی ذمہ داری ہے ، عورت کی طرف سے جو گائے کا دودھ گھروالے استعمال کرتے ہیں یہ اس کی طرف سے تبرع و احسان ہے،لہذا زیوارت اور نقد پیسوں کےساتھ گائے اور بکریوں کی قیمت کو بھی ملایا جائے گا اور نصاب پورا ہونے کی کی صورت میں قربانی واجب ہو گی۔
أما شرائط الوجوب،منها اليسار وهو مايتعلق به وجوب صدقة الفطر۔۔۔ الموسر فى ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا،أو شيئ يبلغ ذلك سوى مسكنه ،ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لايستغني عنها،فأما ما عدا ذلك من سائمة أو رقيق أو خيل أو متاع لتجارة أو غيرها فإنه يعتد به من يساره۔۔۔وببقرة واحدة غني وبثلاثة ثيران إذا ساوى أحدهما مائتي درهم صاحب نصاب۔(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية،ج:5ص:337)
تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،ج:1،ص:544)