بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مستحق زکوۃ کا زکوۃ کی رقم وصول كركے اپنے مالدار رشتہ داروں پر خرچ کرنا
سوال
زکوۃ قبول کرنے کے بعد امیروں پر خرچ کرنا کیسا ہے ۔مثال کے طور پر ایک غریب طالب علم یا مولوی صاحب مستحق زکوۃہے، جب اس کو کوئی زکوۃ دے اور اس کے گھر والے امیر ہوں یعنی صاحب نصاب ہوں تو کیا قبول کرنے کے بعد وہ اس زکوۃ کے مال کواپنے گھر والوں پر خرچ کرسکتا ہےیا نہیں؟
جواب
واضح رہےکہ مستحق زکوۃ کو جب زکوۃ دی جائےتو وہ اس کا مالک بن جاتا ہےاورمالک بننے کے بعد اس میں تصرف کامکمل اختیار حاصل ہوتاہے،چاہے وہ اس زکوۃ کے مال کو خود استعمال کرے یا کسی دوسرےمالدار کو دے ۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی مستحق زکوۃ کو زکوۃ دی جائے اور وہ اس کا مالک بننے کے بعد اسے اپنے کسی مالدار رشتہ دار یا گھر والوں میں سے صاحب نصاب لوگوں پر خرچ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
حدثنا شعبة عن قتادة. سمع أنس بن مالك قال: أهدت بريرة إلى النبي صلى الله عليه وسلم لحما تصدق به عليها. فقال "هو لها صدقة. ولنا هدية".(صحيح مسلم، كتاب الزكوة، باب إباحة الهدية للنبي ولبني هاشم وبني المطلب، ج:2، ص:700، رقم:2485، مكتبة البشرى)
(صدقة ولنا هدية) قال الطيبي: إذا تصدق على المحتاج بشيء ملكه فله أن يهدي به إلى غيره .(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصايح، كتاب الزكاة،باب من لا تحل له الصدقة، ج:4، رقم:1825، ص:1303)
للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء.(بدائع الصنائع، كتاب الدعوى،فصل في أحكام الملك والحق الثابت في المحل، ج:8، ص:509)