بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شوہر کا بیوی کی طرف سے قربانی کرنا


سوال

میری بیوی کے ساتھ چار تولے سونا اور ایک لاکھ بیس ہزار  نقدپیسے ہیں یعنی میری بیوی پر قربانی واجب ہےلیکن میں اس کی پیسوں سے نہیں بلکہ اپنے پیسوں سے بیوی کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہوں تو کیا بیوی کی  اجازت کے بغیر میں اس کی قربانی کر سکتا ہو ں یا میرے لیے بیوی سے اجازت طلب کرنا ضروری ہے؟

جواب

فقہائے کرام کی عبارات سے یہ بات معلوم ہوتی ہےکہ شوہر پر بیوی کی طرف سے قربانی واجب نہیں ہے البتہ اگر شوہر اپنی طرف سےبیوی کے لیے قربانی کرنا چاہے تو بیوی سے اجازت ضروری ہے ورنہ اس کی طرف سے قربانی صحیح نہیں ہوگی۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر شوہر اپنے پیسوں سے  بیوی کی طرف سے قربانی کر نا چاہتا ہو توبیوی کی قربانی صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بیوی صراحتاًاجازت دے یا اس کی طرف سے دلالۃًاجازت موجود ہو جیسے عام طور پر عرف میں شوہر بیوی کی طرف سے قربانی کرتا ہو اور بیوی اس پر راضی ہو تو یہ بھی اجازت شمار ہوگی۔

 

و ليس على الرجل أن يضحي عن أولاده الكبار و امرأته إلا بإذنه۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الأول في تفسيرها، ج:5، ص:338)

ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه وأولاده، ليس هذا في ظاهر الرواية، وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغاراً جاز عنه وعنهم جميعاً في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى -، وإن كانوا كباراً، إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالی۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب السابع:في التضحية عن الغير، و في التضحية بشاة الغير عن نفسه، ج:5، ص:348)


فتویٰ نمبر : 10006/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور