بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
کرائے پر دی گئ دکانوں میں زکوۃ کا حکم
سوال
میراایک پلاٹ ہے ڈی آئی خان میں اس میں چار دکانیں اور ایک فلیٹ ہے ان دکانوں اور فلیٹ کو کرایہ پر دیا ہے ماہانہ ہر ایک دکان کا کرایہ دس ہزار روپے اورفلیٹ کا کرایہ سترہ ہزار روپے ہے اور اس پلاٹ کو2021میں ایک کروڑ بیس لاکھ پر خریدا ہے لہذا اب سوال یہ ہے کہ اس میں زکوۃ کس حساب سے ادا کی جائے گی ؟
جواب
واضح رہے کہ جو پلاٹ، مکان یا دکان وغیرہ اپنے استعمال یا کرایہ پر دینے کی نیت سے خریدا گیا ہو،تو اس کی مالیت میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی، البتہ جب کرایہ پر دیا جائے اور مالک پہلے سے صاحب نصاب ہو یاکرایہ کی آمدنی سے صاحب نصاب بن جائے تو سال گزرجانے پر اس میں زکوۃ واجب ہوگی۔
صورت مسئولہ کے مطابق کرائے پر دی گئ دکانوں اورفلیٹ کی مالیت پر زکوۃ واجب نہیں، البتہ اس سے حاصل شدہ آمدنی اگر نصاب تک پہنچے یا سائل پہلے سے صاحب نصاب ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ واجب ہوگی ۔
"الزكوة واجبة على الحر العاقل ۔۔۔۔اذا ملك نصابا ملكا تاما ، وحال عليه الحول "۔ (الهداية ، كتاب الزكوة، ج:1، ص:200 ،201)
"ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة"۔ (الخانية على هامش الهندية،كتاب الزكوة، فصل فى مال التجارة، ج:1، ص:251)