بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
شریک گھر کےصاحب نصاب افراد میں سے ہر ایک پر قربانی کا وجوب
سوال
ہم دو بھائی سرکاری ملازم ہیں، اور والد صاحب کے ساتھ شریک ہیں۔ تو کیا ہم پر الگ الگ قربانی واجب ہے یا کیا والد صاحب کی قربانی سے ہمارا ذمہ ختم ہوجاتاہے؟
جواب
واضح رہےکہ قربانی ہر اس مسلمان (مرد و عورت) پر واجب ہوتی ہے جو عاقل، بالغ اور مقیم ہو اور اس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولہ سونایا ساڑھے باون تولہ چاندی یا چاندی کے نصاب کے بقدر نقدی یاضرورت سے زائد سامان موجود ہو، ایسے شخص پر قربانی واجب ہے۔
صورت مسؤلہ میں اگر دوبھائی سرکاری ملازم ہیں اوروالد صاحب کے ساتھ شریک ہیں تو دونوں میں سے جس کے پاس اپنی ذاتی ملکیت میں سونے یا چاندی کا نصاب موجود ہو تو اس پرقربانی کرنا لازم ہے،کیونکہ والد کی قربانی کرنے سے بیٹوں کے ذمے سے واجب قربانی ختم نہیں ہوتی اور جس کی ذاتی ملکیت میں نصاب کے بقدر مال موجود نہ ہو تو اس پر قربانی لازم نہیں۔
وأما شرائط الوجوب، منها: اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة۔۔۔والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الأول: في تفسيرها، وركنها، وصفتها، وشرائطها، وحكمها، وفي بيان من تجب عليه و من لا تجب، ج:5، ص:336)