بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
اللہ زمین پر اتر کر مجھےکہہ دے یا پیغمبر مجھے کہہ دے کہ اس کو معاف کرو پھر بھی معاف نہیں کرتا، الفاظ کہنے کا حکم
سوال
دو بندو ں کے درمیان جھگڑا ہوگیا تو لوگوں نے ان دونوں میں سے ایک سے عرض کیا چلو آپ اس کو معاف کرو تو اس نے کہا کہ "اگر اللہ زمین پر اتر کر مجھے کہہ دے یا پیغمبر مجھے کہہ دے کہ اس کو معاف کرو، پھر بھی معاف نہیں کرتا" تو کیا وہ بندہ ان الفاظ کے ساتھ دائرہ اسلام سے خارج ہوتاہے؟
جواب
واضح رہے اگر کوئی اللہ جل شانہ یا نبی کے بارے میں استہزا اور استخفاف کے طور پر کوئی نازیباالفاظ كا استعمال کرے تو اس سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے، لیکن اگر اس سے استہزا اور استخفاف مراد نہ ہو بلکہ غصے میں بے قابو ہوکر ایسے کلمات کہہ دے جس سے استہزا و استخفاف مقصود نہ ہو تو اس صورت میں کفر لازم نہیں آتا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی کسی نے یہ الفاظ"اگر اللہ زمین پر اتر کر مجھےکہہ دے یاپیغمبر مجھے کہہ دے کہ اس کو معاف کرو پھر بھی معاف نہیں کرتا" استعمال کئے ہوں، اوراس سے اللہ جل شانہ یا پیغمبرﷺکا استہزا مراد ہو تو اس سے وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے اور اس پر تجدید ایمان ضروری ہے اوراگر شادی شدہ ہے توتجدید نکاح بھی اس کےلیےضروری ہے، البتہ اگر اہانت اور استہزا کے طور پر استعمال نہ کئے ہوں ، بلکہ ویسے غصہ کی حالت میں زبان پر جاری ہوئے ہوں، تو اس سے وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، البتہ توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے۔
وسئل عبد الكريم عمن قال لإمرأته حالة المعاتبة على ترك الصلاة: أما تخافين الله؟ فقالت: لا، قال ينبغي أن لاتكفر بهذا القدر، إلا إذا كانت على وجه الاستخفاف و الاستهزاء، وعن محمد أنه سئل عمن أرادأن يضرب إنسانافقال: ألا تخاف الله؟ فقال: لا، قال: لايكفر، وإن رآه في معصية فقال: ألا تخاف الله؟ فقال: لا، يكفر. (الفتاوى التاتارخانية، كتاب أحكام المرتدين، الفصل الخامس: في المتفرقات من جنس هذه المسائل المتقدمة، ج: 7، ص: 292)
رجل وضع رجله على المصحف، إن كان على وجه الاستخفاف يكفر، و إلا فلا. ( الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الخامس: في أداب المسجد والمصحف، ج: 5، ص:373)