بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گوشت كے ليے پالےہوئے جانور پر قربانی کا حکم


سوال

ہمارے  ہاں  کچھ لوگ جانوروں کو گوشت کے لیے پالتے ہیں پھر سردی کے موسم میں ذبح کرکے کھاتے ہیں اس کو ہماری اصطلاح میں لاندی کہتے ہیں کیا یہ جانور ضرورت میں داخل ہوکر قربانی کے نصاب میں غیر محسوب ہوگا یاخارج از ضرورت ہوکر نصاب قربانی میں محسوب ہوگا؟

جواب

ضرورتِ اصلیہ سے مراد وہ ضرورت ہے جو جان اور آبرو سے متعلق ہو یعنی اس کے پورا نہ ہونے سے  جان یا عزت وآبرو جانے کا اندیشہ ہو، مثلاً: کھانا، پینا، پہننے کے کپڑے، رہنے کا مکان،   سواری ،اہلِ صنعت وحرفت کے لیے ان کے پیشہ کے اوزار ضرورتِ اصلیہ میں داخل ہیں۔

 ضرورت سے زائد سامان سے مراد یہ ہے کہ وہ چیزیں انسان کی استعمال میں نہ ہوں، اورہرانسان کی ضروریات اور حاجات عموماً دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، اور راجح قول کے مطابق ضروریات کو پوری کرنے کے لیے  اشیاء کو جائز طریقہ سے اپنی ملکیت میں رکھنے کی کوئی خاص  تعداد شریعت کی طرف سے مقرر نہیں ہے، بلکہ جو چیزیں انسان کے استعمال میں ہوں اور انسان کو اس کے استعمال کی حاجت پیش آتی ہو اور وہ اشیاء تجارت کے لیے نہ ہوں تو  ضرورت اور حاجت کے سامان میں داخل ہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق گوشت ضرورت اصلیہ  میں داخل نہیں،لہذاان جانوروں کو نصاب قربانی میں محسوب  کیا جائے گا ۔

 

والموسر ‌في ‌ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها، فأما ما عدا ذلك من سائمة أو رقيق أو خيل أو متاع لتجارة أو غيرها فإنه يعتد به من يساره ۔( الفتا وی  الهندية ،کتاب الاضحیة،باب من تجب عليه ومن لاتجب،ج:5،ص337)

أي ‌فسر ‌المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك، فإذا كان له دراهم مستحقة بصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة، كما أن الماء المستحق بصرفه إلى العطش كان كالمعدوم وجاز عنده التيمم. اهـ. وظاهر قوله فإذا كان له دراهم إلخ أن المراد من قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية ما كان نصابا من النقدين أو أحدهما فارغا عن الصرف إلى تلك الحوائج۔(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزکوة، ج:3، ص:262)


فتویٰ نمبر : 10081/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور