بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مستحق زکوٰۃ مہتمم کے لیے زکوۃ کی رقوم کی خود تملیک کرنا
سوال
بعض مہتمم خود زکوۃ کے مستحق ہوتے ہیں، وہ زکوۃ وصو ل کرکے خود تملیک کرلیتے ہیں، کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہوگا؟
جواب
مدارس میں زکوۃ دینے والے عموماً مستحق طالب علموں کے لیے زکوۃ دیتے ہیں ،جبکہ مہتمم دینے والوں کی طرف سے وکیل ہوتاہے۔ وکیل کو جس چیز کا وکیل بنایا جائے، اُ س کو اِس کے خلاف کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ کے مطابق مدارس میں زکوۃ عموماً مستحق طالب علموں کے لیے دی جاتی ہے،اس لیے انہیں کو مالک بنانا ضروری ہے۔مہتمم کا خودسے تملیک کراناجائز نہیں، اگرچہ وہ مستحق زکوۃ ہو۔ البتہ اگرزکوٰۃ دینے والامستحق مہتمم کو ہی زکوۃ کا مالک بنائے اور پھر وہ اس رقم کو اپنی مرضی سے مدرسہ میں خرچ کرے تو یہ جائز ہے۔
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه).(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الزكوة ،باب مصرف الزكوة والعشر،ج:2،ص:344)