بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ایک تولہ سونا اور دس روپے پر وجوب قربانی


سوال

اگر کسی شخص کے پاس ایک تولہ سونا اور دس روپے ہوں تو کیا اس پر قربانی واجب ہوتی ہے   یا نہیں؟

جواب

جس مرد يا جس عورت كے پاس سونا ،چاندی یا نقدی ہولیکن کوئی بھی جنس اپنی نصاب تک نہیں پہنچا ہو تو سب کو ملا یا جائے گا ۔ اس ملانے کی کیفیت میں امام ابوحنیفہؒ اور صاحبین ؒ کی رائے الگ الگ ہے۔امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک قیمت کے اعتبار سے ملایا جائے گا، جبکہ صاحبین ؒ کے ہاں  ان کو اجزا کے اعتبار سے ملایا جائے گا ۔فقہ حنفی کی کتابوں میں اگرچہ امام صاحب کا قول مفتیٰ بہ قرار دیا ہے لیکن موجودہ حالات میں سونے اور چاندی کی قیمتوں کے درمیان تفاوت بہت زیادہ بڑھنے کی وجہ سے امام صاحب کے قول پر عمل کرنے کی صورت میں بہت سی مشکلات  کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس لیے حالات کو مدنظر  رکھ کر صاحبین کے قول "ضم بالاجزا "پر فتوی دینا زیادہ مناسب ہے تاکہ  لوگ مشکلات میں نہ پڑیں ۔نیز امام ابوحنیفہؒ سے بھی ایک قول اجزا کے اعتبار سے ملانے کا مرو ی ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی کے  پاس ایک تولہ سونا اور دس روپے ہو ں تو ضم بالاجزاء کے اعتبار سے اس پر قربانی واجب نہیں،کیونکہ  ایک تولہ سونا کے ساتھ 45.5تولہ چاندی یا اس کی قیمت  کے بقدر پیسوں کا ہونا ضروری ہے۔

 

ثم اختلف أصحابنا ‌في ‌كيفية ‌الضم فقال أبو حنيفة: يضم أحدهما إلى الآخر باعتبار القيمة، وقال أبو يوسف ومحمد: يضم باعتبار الأجزاء وهو رواية عن أبي حنيفة ايضاً.(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة، فصل مقدار الواجب فى زكوة الذهب، ج:2، ص:412)

ومتى كان قول أبى يوسف و محمد موافق قوله لا يتعدى عنه إلا فيما مست إليه الضرورة، وعلم أنه لو كان أبوحنيفة رأى ما رأوا لأفتى به، و كذا إذا كان أحدهما  معه.(شرح عقود رسم المفتى،مطلب فى الترتيب بين روايات المذهب، ص:390 )


فتویٰ نمبر : 10009/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور