بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
شعر " میرے اللہ" میں لفظ اللہ کی "ہا" کو لمبا کرنا
سوال
علامہ اقبال کی ایک نظم ہے ”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری “ اس میں ایک شعر ہے ” میرے اللّٰہ ہر برائی سے بچانا مجھ کو“ ہم اکثر جب اس کو موبائل پر سنتے ہیں تو اس میں” میرے اللّٰہ “ کے بعد وہ ” ہا“ كو بہت لمبا کرتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس شعر میں جو ” ہا“ كولمبا کیا جاتا ہے کیا یہ لفظ اللّہ کی ”ہ“ کو لمبا کیا جاتا ہے اور اگر لفظ اللّٰہ کی ”ہ“ کو ہی لمبا کیا جاتا ہے تو اگر کوئی“ شخص بے خیالی میں خود پڑھتے ہوئے” ہا“ پر رونے والا منہ بنائےتو کیا اس شخص نے لفظ اللّٰہ کی توہین کی ہے ؟ رہنمائی فرما دیں۔
جواب
لفظ اللہ کی "ہا " کو ساکن پڑھنا یا اس پر مد کرنا لغوی اعتبار سے غلطی شمار ہوتی ہے اگر شعر " میرے اللہ" میں لفظ اللہ کی "ہا" کو لمبا کیاجاتا ہو تو اگرچہ لغوی اعتبار سے یہ غلطی شمارہوتی ہے، ليكن اس سے لفظ اللہ کی توہین نہیں ہوتی۔
لو مد ألف الله لا يصير شارعا وخيف عليه الكفر إن كان قاصدا، وكذا لو مد ألف أكبر أو باءه لا يصير شارعا لأن أكبارا جمع كبر وهو الطبل، وقيل اسم للشيطان، ولو مد هاء الله فهو خطأ لغة وكذا لو مد راءه، ومد لام " الله " صواب، وجزم الهاء خطأ لأنه لم يجئ إلا في ضرورة الشعر. (فتح القدیر، باب صفة الصلاة، ج: 1، ص: 303)