بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
جعلی میڈیکل رپورٹ کے ذریعے پنشن لینا اوراپنی پوسٹ پربیٹے یا بیٹی کی تقر ری کروانا
سوال
کچھ عرصے سے اکثر سرکاری ملازمین با لخصوص ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ کرام جب پنشن کے قریب ہوتے ہیں،تو پنشن کی مقررہ مدت سے پہلے جعلی (جھوٹی) میڈیکل ان فٹ سرٹیفیکیٹ کے ذریعے سے پنشن لیتے ہیں جن میں ان کا بنیادی مقصد اپنے بیٹے کو بھرتی کروانا ہوتا ہے، جن سے ہماری معلومات کے مطابق درج ذیل خرابیاں لازم آتی ہیں: جھوٹی میڈیکل ان فیٹ سرٹیفیکیٹ بنانا ،رشوت کے ذریعے ڈاکٹروں سے جھوٹی میڈیکل سرٹیفیکیٹ لینا، متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے آفسروں،سیکورٹی کمیٹی کے ممبران اور میڈیکل بورڈ سٹینڈنگ کمیٹی کے اعلی افسروں کو رشوت دینایا ان کو کسی بڑے عہدے والے لوگوں کے ذریعے سفارش کروانا، تعلیم کے لحاظ سے اپنے سب سے کمزور بیٹے کو بھرتی کروانا جن کے پاس صرف برائے نام تعلیمی اسناد ہوں،بھرتی ہونے والے کی کم علمی کی وجہ سے سکول کے بچوں کا پڑھائی کا حق ادا نہ کرنا، ایسی یونین کونسل میں تعلیم کے لحاظ سے بہت قابل نوجوان موجود ہو ں جو سکول کےبچوں کے پڑھائی اور تربیت کرنے کی اچھی صلاحیت رکھتے ہو ں اس کے باوجود ان کو محروم کرکے ان کی جگہ میڈیکل بورڈ کرنے والے ملازم کےلئے یا ان کے بیٹے کو بغیر ٹیسٹ کے بھرتی کروانا ، کیونکہ پھر یونین کونسل میں مخصوص او رمحدود خالی آسامیاں ہوتے ہیں، تو ان تمام آسامیوں (پوسٹوں) پر مذکورہ کم علم لوگوں کو بھرتی کر کے قابل لوگ اس سے محروم ہو جاتے ہیں جو کہ ان کا حق ضائع کرنے کے مترادف ہیں۔ لہذا مذکورہ وجوہات کی بنا پر جھوٹی میڈیکل رپورٹ کے ذریعے پنشن لینا اور اس ڈیپارٹمنٹ میں اپنے بیٹے یا بیٹی کو بھرتی کروانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص واقعتاً معذور ہو تو اُس کے لیے میڈیکل ان فٹ رپورٹ کی بنیاد پرریٹائرمنٹ لینا جائز ہے، اوران فٹ ہونے کی بنیاد پرجو مراعات متعلقہ ادارے کی طرف سے دی جاتی ہیں(خواہ وہ پنشن ہو یا دیگر اضافی مراعات ہوں)وہ متعلقہ ادارے کی طرف سے تبرع اوراحسان ہوتا ہے، لہذاان کا لینا جائز ہے۔ اوراگرکوئی شخص معذورنہ ہواور جعلی میڈیکل رپورٹ بنواکراپنے آپ کو معذور ظاہر کرکے ریٹائر ہوجائے تاکہ ادارے سے مراعات حاصل کی جاسکے تو یہ کام جھوٹ اور دھوکے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص حقیقتاً بیمار نہ ہواور میڈیکل رپورٹ کے ذریعے اپنے آپ کو خلاف حقیقت بیمار ظاہر کروارہا ہو، اور یوں دھوکہ دہی اور فریب سے اپنے آپ کو پنشن کا مستحق بنا رہا ہو، تو ایسی صورت میں اس شخص کے لیے پنشن لینا جائز نہ ہوگا اورسوال ميں ذكر كرده خرابيوں كے ساتھ اپنے پوسٹ پر بیٹے یا بیٹی کی تقرری کروانا اور اس سے دوسرے لوگوں کی حق تلفی کرانا بھی ناجائزہے۔
قال الله تعالى: ﴿يَٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَالَكُم بَيۡنَكُم بِالۡبَاطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمۡۚ﴾ (النساء:29)
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا».(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم"من غشنا فليس منا"، ج:1، ص:99)
قَال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه".(السنن الکبری للبیھقی، کتاب الغصب، باب من غصب لوحاً فأدخله في سفينة أو بنى عليه جدارا، ج:8،ص:506)
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.(البحر الرائق شرح كنزالدقائق، كتاب الحدود، فصل في التعزير، ج:5، ص:67، دارالكتب العلمية)