بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
چاليس دن تك زير ناف بال كاٹےبغیر نماز پڑهنے كا حكم
سوال
ایک شخص نے چالیس دن تک زیر ناف بال صاف نہیں کیے اور اسی دوران اس نے لوگوں کو کچھ نمازیں پڑھائیں ،کیا یہ نمازیں صحیح ہیں یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ ہفتہ میں ایک مرتبہ غسل کرنا،ناخن کاٹنا ،مونچھیں،زیر ناف بال اور بغل کے بال صاف کرنا مستحب ہے بہتر یہ ہے کہ جمعہ کے دن کیا جائے۔تاہم زیادہ سے زیادہ چالیس دن تک گنجائش ہے،اگر چالیس دن کے بعد بھی صفائی نہ کرے تو گناہ گار ہوگا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق کسی شخص کا چالیس دن تک زیر ناف بال صاف نہ کرنامکروہ تحریمی اور گناہ کا باعث ہے البتہ آدمی اس سے ناپاک نہیں ہوتا ، لہٰذا اس حالت میں نماز دیگر شرائط کا خیال رکھتے ہوئے ادا کی جائے تو ادا ہو جائے گی ۔
عن أنس بن مالك قال: قال أنس: « وقت لنا فی قص الشارب، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط، وحلق العانة أن لا نترك أكثر من أربعين ليلة ».(صحيح مسلم، باب خصال الفطرة: 258)
(و)يستحب (حلق عانته و تنظيف بدنه بالاغتسال فی كل أسبوع مرة)والأفضل يوم الجمعة، وجاز فی كل خمسة عشرة، وكره تركه وراء الأربعين.قال ابن عابدين: (كره تركه) أي تحريما لقول المجتبي :ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد.(رد المحتار علي الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، باب الإستبراء وغيره، ج:9، ص:583)