بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مرض میں فوت ہونے کے بعد روزوں کا فدیہ


سوال

میرا رشتہ دار روزے کی حالت میں بیمارہوا اور اس کا روزہ ٹوٹ گیا اور وہ  اسی  شام سے تین دن تک  آئی   سی یو میں بے ہوش رہ کر انتقال کرگیا ۔کیا اس پر اس  دن کے روزے کی قضا تھی اور اس کے رشتہ دار اس دن کا فدیہ ادا کریں گے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص بوجہ عذرِ شرعی رمضان کے روزے رکھنے پر  قادر نہ ہو تو عذر زائل ہونے کے بعد اس پر ان روزوں کی قضا لازم ہے،تاہم اگر مریض کو تندرستی و صحت یابی حاصل نہ ہوسکی اور اسی مرض میں ہی وہ  وفات پا جائے تو ایسی صورت میں جو روزے دوران ِمرض فوت ہوئے  ہوں ان کا فدیہ ادا کرنا   لازم نہیں۔

 صورت مسؤلہ میں  جب مذکورہ شخص روزے کی حالت میں بیمار ہوا اور پھر بے ہوش ہو کر وفات پائی تو چونکہ اسے قضا ء کا موقع  نہیں ملا اس لیے ان روزوں کا فدیہ لازم نہیں۔

 

(فإن ماتوا فيه) أي في ذلك العذر (فلا تجب) عليهم (الوصية بالفدية) لعدم إدراكهم عدة من أيام أخر (ولو ماتوا بعد زوال العذر وجبت) الوصية بقدر إدراكهم عدة من أيام أخر.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،ج:3، ص:406)

القدرة على القضاء حتى لو فاته صوم رمضان بعذر المرض أو السفر ولم يزل مريضا أو مسافرا ‌حتى ‌مات ‌لقي ‌الله ولا قضاء عليه، لأنه مات قبل وجوب القضاء عليه، لكنه إن أوصى بأن يطعم عنه صحت وصيته وإن لم يجب عليه.(بدائع الصنائع، كتاب الصوم ، ج:2، ص:628)

ولو فات صوم رمضان بعذر المرض أو السفر واستدام المرض والسفر حتى مات لا قضاء عليه ‌لكنه ‌إن ‌أوصى ‌بأن ‌يطعم ‌عنه صحت وصيته، وإن لم تجب عليه.(الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب الخامس:في الاعذار التي تبيح الإفطار،ج:1، ص:270)


فتویٰ نمبر : 9985/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور