بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
کسی کافرکی طرف فرضی نسبت کرنا
سوال
اکیڈمی میں ہمارے استاذ ہفتے میں مختلف قسم کی سرگرمیاں طلباء کے فائدے کے لیے منعقد کرتے ہیں ان میں سے ایک دن پریس کانفرنس ہوتی ہےجس کا طریقہ کار یہ ہےکہ ہر ایک سٹوڈنٹ کو ایک مشہور شخصیت کا نام دیتے ہیں کہ آپ نے کل فلاں شخصیت کا کردار ادا کرنا ہےلیکن بد قسمتی سے کبھی کبھی ان میں غیر مسلم شخصیات کے نام بھی آتے ہےمثلاً: ایک سٹوڈنٹ کہتا ہے میں رونالڈو یا ڈونلڈٹرمپ وغیرہ ہوں، پھر دوسرے سٹوڈنٹس اس سے ڈونلڈٹرمپ یا رونالڈو وغیرہ کے بارے میں سوالات کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کسی کافر کی طرف فرضی نسبت کرنے سے کوئی کافرہوتا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہےکہ کسی شخص کا گزرے ہوئے حالات کی حکایات بیان کرنایا کسی دوسرے شخص کی نقل اتارنے پر شرعاً اصل جیسا حکم مرتب نہیں ہوتا۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق کسی تعلیمی ادارےمیں طلبہ کا کسی کافر کی نقل اتارتے ہوئےاس کی طرف نسبت کرنا چونکہ محض فرضی کردار اپنانا ہوتا ہے اس لیے اس سے کوئی آدمی کافر نہیں ہوتا، تاہم استاذ کو چاہیے کہ کو ان لوگوں کے کردار کے بجائے مسلم شخصیات کاکردارادا کرنے کا کہے، کیونکہ کفار کے ساتھ مشابہت بھی نقصان سے خالی نہیں۔
وفي الذخيرة: قال واحد من أهل المجلس للمطربة: این بیت بگوکہ من بتودادم کہ تو جان منی فقالت المطربة ذلك، فقال الرجل:من پزیر فتم إذا قالت على وجه الحكاية فقيل: لاينعقد النكاح؛ لإنّها إذا قالت على وجه الحكاية لاتكون قاصدة للإيجاب۔(الفتاوى التاتارخانية ، كتاب النكاح، ج:4، ص:7)