بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
ورثا کی طرف سے کفارے کے روزوں کا فدیہ دینا
سوال
ایک دوست نے رمضان المبارک کے پانچ روزے قصداًیعنی بغیر کسی شرعی عذرکے توڑدئے ہیں اور روزوں کا فدیہ ادا کرنےکی وصیت کیے بغیر فوت ہوا ہے،اب اس کے گھر والے اس کی طرف سے فدیہ دینا چاہتےہیں تو کیا ورثاپر اس شخص کی طرف سے فدیہ دینا لازم ہے یا نہیں،اور کیا ایک کفارہ دینے سے ذمہ فارغ ہوگا یا الگ الگ کفارہ ادا کیا جائے گا؟
جواب
واضح رہے کہ جس شخص کے ذمے نماز یا روزے واجب الادا ہوں اوروہ اس کی ادائیگی یا وصیت کیے بغیر فوت ہوجائے تو ورثا پر اس کا فدیہ ادا کرنا واجب نہیں ،اور اگر وصیت کی ہو کہ میری نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جائے تو پھر ورثا پر لازم ہے کہ ایک تہائی ترکہ میں فدیہ ادا کریں۔ نیزاگر کسی نے کئی مرتبہ قصداً روزہ تھوڑا ہواوراس نے پہلے روزے کا کفارہ ادا نہ کیا ہو تو سب روزوں کے لیے ایک ہی کفارہ کافی ہوگا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق فوت شدہ شخص نے اگر وصیت نہ کی ہوتوورثا پر فدیہ دینا واجب نہیں، تاہم اگر بالغ ورثا اپنی طرف سے اپنے مال میں سے ادا کرنا چاہیں توادا کرسکتے ہیں۔ چنانچہ کفارہ کے 60 روزوں کا فدیہ ادا کریں اور پانچ قضاء روزوں کا۔
ومن مات وعليه قضاء رمضان فأوصى به أطعم عنه وليه لكل مسكينا نصف صاع من بر أو صاعا من تمر أو شعير " لأنه عجز عن الأداء في آخر عمره فصار كالشيخ الفاني. (الهداية،كتاب الصوم، ج:1، ص413)
ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص.....واعلم أيضا أن المذكور فيما رأيته من كتب علمائنا فروعا وأصولا إذا لم يوص بفدية الصوم يجوز أن يتبرع عنه وليه.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:533)
ولو تكرر فطره ولم يكفر للأول يكفيه واحدة ولو في رمضانين عند محمد وعليه الاعتماد بزازية ومجتبى وغيرهما.( رد المحتارعلى الدرالمختار،كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسد، ج:2، ص:413)