بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
نکاح کے بعدرخصتی سے پہلے طلاق دینے کا حکم
سوال
اگر كوئی شخص نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے اپنی بیوی کو کال کے ذریعے کہے کہ "تجھے طلاق،طلاق،طلاق"شرعا اس کا کیا حکم ہے کیا دوبارہ ملنے کی کوئی صورت ہے؟
جواب
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو نکاح کے بعد رخصتی اور خلوت صحیحہ (کسی مانع کے بغیر تنہائی میں ملاقات ) سے پہلےتین طلاقیں الگ الگ الفاظ یا جملوں سے دے دےتوصرف پہلی طلاق واقع ہوکربیوی بائنہ ہوجائے گی اور دوسری اور تیسری طلاق کے لیے محل نہ رہنے کی وجہ سے وہ لغو ہو جائیں گی، البتہ عورت پر عدت گزارنا لازم نہیں ، نیز طلاق کے بعد وہی شخص دوبارہ اس سے نکاح کرنا چاہے تو از سر نو جدید مہر اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرسکتا ہے، اور آئندہ کے لیے شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص نکاح کے بعد رخصتی اور خلوت صحیحہ سے پہلے اپنی بیوی سے کال کے ذریعےیہ الفاظ کہے"تجھے طلاق،طلاق،طلاق"تو اس سے صرف ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے اس کے بعد باہم رضا مندی سے نیا نکاح کر سکتے ہیں البتہ آئندہ شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
(وإن فرق بانت بالأولی)لاإلی عدة(و)لذا(لم تقع الثانية)بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل.(ردالمحتار علی الدرالمختار،باب طلاق غير المدخول بها،ج:4،ص:512)
قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق ثلاثاوقعن،وإن فرق بانت بالأولی لم تقع الثانية.(تنوير الأبصار علی صدر ردالمحتار،باب طلاق غير المدخول بها،ج:4،ص:509)