بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
غیر مستحق زکوۃ کے لیے مدرسہ سے کھانا کھانے کا حکم
سوال
بعض اساتذہ اور طالب علم صاحب حیثیت ہونے کے باوجود مدرسے کا کھانا کھاتے ہیں ،کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صدقات نافلہ سے مالدار اور غریب دونوں کا کھانا جائز ہے، لیکن صدقات واجبہ صرف مستحق کو ملکیتاً دینا ضروری ہے۔ نیز ملکیت کی تبدیلی سے حکم بھی تبدیل ہوجا تا ہے، لہذا زکوۃ کی رقم مستحق کو ملکیتاً دے کر اگر اخراجات کی مد میں ان سے وصول کی جائے، تو واپسی پر اس کا حکم بدل جاتا ہے چنانچہ غیر مستحق کے لیے بھی اس کا استعمال جائز ہوجاتاہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی مدرسے میں صدقات نافلہ سے یا صدقات واجبہ میں تملیک کرانے کے بعد کھانا تیار کیا جائے، تو صاحب حیثیت اساتذہ اور طالب علم کے لیے بھی اس کا کھانا جائز ہے۔
عن عائشة، أن بريرة تصدق عليها، فأهدت إلى عائشة، فسألت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: «هي لها صدقة ولنا هدية»(مسند أبي عوانة،كتاب الطلاق،باب ابطال الشرط في الولاء،ج:3،ص:232،رقم الحديث:4780)
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه).(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الزكوة ،باب مصرف الزكوة،ج:3،ص:291)
وحيلة التكفين بها التصدق على الفقير ثم هو يكفن فيكون الثواب لهما، وكذا في تعمير المسجد.(الدر المختار مع ردالمحتار،كتاب الزكاة،ج:3،ص:191)