بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مدرسہ کی رقم مدرسہ کی مسجد میں خرچ کرنا


سوال

مدرسہ میں مسجد ہے، کیا مدرسہ کی آمد میں سے مسجد کی ضروریات مثلاً پانی، بجلی وغیرہ پر خرچ کیا جاسکتاہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب چندہ دہندگان مدرسہ میں چندہ دیتے وقت کسی مخصوص مصرف کی تعیین نہ کریں تو طلبا اور مدرسہ کے مفاد میں جملہ مصارف میں شرعی اصولوں کے مطابق وہ رقم خرچ کی جا سکتی ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر مسجد مدرسہ کی ہے، تو وہ بھی طلبا اور مدرسہ کے مصالح میں شامل ہے۔ لہذا عمومی چندہ کی رقم مدرسہ کی مسجد  کی ضروریات پر خرچ کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ صدقات واجبہ کی رقم نہ ہویا اگر ہو تو جائز طریقے سے اس کی تملیک کروائی گئی ہو۔

 

وما خالف شرط الواقف ‌فهو ‌مخالف ‌للنص وهو حكم لا دليل عليه، سواء كان نصه في الوقف نصا أو ظاهرا اهـ وهذا موافق لقول مشايخنا كغيرهم، شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه كما صرح به في شرح المجمع للمصنف.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الوقف،ج:4،ص:490)

وهنا ‌الوكيل إنما يستفيد التصرف من المؤكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره. (ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الزكاة،ج:1،ص:168)

‌‌الإذن ‌والإجازة ‌توكيل.(مجلةالاحكام العدلية، المادة:1452، ص:281)


فتویٰ نمبر : 5806/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور