بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مال حرام سے قربانی کرنا


سوال

کیا حرام پیسوں پر قربانی واجب ہوتی ہے؟ زید کے پاس حرام کے 2 لاکھ روپے موجود ہیں ۔اتنے پیسوں پر تو قربانی واجب ہوتی ہے  ۔لیکن زید کے یہ پیسے حرام کی کمائی کے ہیں  تو  کیا ان پیسوں پر   قربانی ہوگی ؟جیسے کسی کے پاس حرام کے پیسے ہوں تو زکاۃ واجب نہیں ہوتی تو کیا قربانی ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ  مال حرام  پر قربانی واجب نہیں ہوتی کیونکہ  مالِ حرام کے متعلق یہ حکم ہے کہ اگر بلاعوض حاصل ہوا ہو تواسے مالک تک پہنچانا لازم ہے،اور اگر ممکن نہ ہو تو اسے بغیر نیت ثواب کے  صدقہ کرنا واجب ہے۔ نیز اللہ  تعالیٰ حرام اور ناپاک مال سے صدقہ قبول نہیں فرماتے۔

صورت  مسئولہ کے مطابق اگر  کسی  کے پاس صرف حرام مال ہو تو اس پر قربانی واجب  نہیں ۔ بلکہ  اس پر لازم ہے کہ  یہ رقم مالک  کو پہنچا دے یا مالک معلوم نہ ہوسکے تو بلا نیتِ ثو  اب صدقہ کردے۔

 

عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أيها الناس، إن الله طيب لايقبل إلا طيباً، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: "يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحاً، إني بما تعملون عليم" (المؤمنون: 51) وقال:"يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم" (البقرة: 172)، ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر، يمد يديه إلى السماء، يا رب، يا رب، ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك. (صحیح المسلم،کتاب الزکوة، ‌‌باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها،ج:3،ص:85)

(قوله: كما لو كان الكل خبيثا) في القنية لو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه. (ردالمحتارعلی الدر المختار،کتاب الزکوة، باب زکوةالغنم،ج:3،ص:218)


فتویٰ نمبر : 10007/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور