بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حکومت کی اجازت کے بغیر سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی عمارت کو ذاتی استعمال میں لانا


سوال

ہم نے ایک گھر خریدا  ہے اس گھر کے پیچھے ایک مرلہ سرکاری زمین ہے جو  اس گھر کے ساتھ منسلک  ہے، جن سے ہم نے گھر خریدا   ہےانہوں نے اس سرکاری   زمین پر تین منزلہ آبادی کی ہے اس سرکاری زمین کی کیفیت یہ ہے کہ چاروں طرف سے مکمل طور پر آبادی ہے صرف یہ ایک مرلہ زمین جو  نالے کے کنارے واقع ہے اور بالکل غیر آباد زمین ہےاب اگر اس عمارت کو گرانا پڑے تو اس پر کافی پیسے بھی خرچ ہونگے اور وقت بھی اور چونکہ اب تک سرکار نے اس کا بالکل نہیں پوچھا جب بھی سرکار اس زمین کے خالی کرنے کا بولے گی تو یہ فورا سرکار کو حوالے کی جائے گی اور اس پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں تو تب تک اس زمین کو  ذاتی استعمال میں لانا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جو زمین سرکار کی ملکیت میں ہو  تو سرکار کی اجازت کے بغیر اس میں ذاتی تصرف کرنا جائز نہیں ،البتہ  اگر  سرکار سے وہ زمین خرید لی جائے یا باضابطہ طور سے سرکار سے  اس زمین میں ذاتی تصرف کرنے کی اجازت لے لی جائے تو تب اس زمین  پر ذاتی تصرف کرنا جائز ہو گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل نے جو  گھر خریدا ہے اور اس کے ساتھ ایک  مرلہ سرکاری زمین منسلک ہے،جس پر فروخت کنندہ نے تين منزلہ عمارت بنائی ہے،تو اگر  یہ عمارت سرکار کی اجازت سےتعمیر کی گئی ہو  تو اس عمارت کو استعمال کرنا جائز ہے،تاہم اگر سرکار کی اجازت کے بغیر اُس  کی زمین میں   تعمیر کی گئی ہو  تو  اس کو   اپنے ذاتی استعمال  میں لانا جائز نہیں ۔لہذا سرکار سے باضابطہ اجازت لی جائے  یا اس زمین کو سرکار سے خرید لیا جائے   تب اس عمارت کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہو گا۔

 

عن أبي حميد الساعدي، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ‌لا ‌يحل ‌لامرئ ‌أن ‌يأخذ ‌مال أخيه بغير حقه " وذلك لما حرم الله مال المسلم على المسلم۔(مسند أحمد،حدیث أبي حميد الساعدي رضي الله عنه،ج:6ص:591)

عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌من ‌اقتطع ‌شبرا ‌من ‌الأرض ‌ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين۔(صحیح مسلم،‌‌باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها،ج:2،ص:54)


فتویٰ نمبر : 5834/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور