بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیٹوں کاباپ کو قربانی کے لیے پیسے دینا


سوال

میں ایک پرائیویٹ سیکٹر میں  کام کرتا ہو ں میری تنخواہ  12  ہزار روپے ہے ، میری بیوی کے ساتھ ڈیڑھ تولہ سونا ہے ، میرا دوسرا بھائی بھی ملازم ہے اس کی تنخواہ 25 ہزار ہے ، لیکن نقد فی ا لحال نہیں ہے ۔ میرے ابو کی خواہش ہے کہ ہم قربانی کریں ، ہم دونوں بھائیوں نے فیصلہ کیا کہ ہم دونوں پیسے اکھٹے کر کے ابو کو دینگے اور وہ اپنے نام سے قربانی کریں ۔ لیکن میری بیوی کے پاس ڈیڑھ  تولہ سونا ہے اب میری بیوی اورمیرے باپ  میں سے بہتر کون ہے جس کے نام پر قربانی کی جائے ۔

جواب

واضح رہے کہ قربانی  ہر مسلمان ( مرد و عورت ) پر واجب ہوتی ہے جو عاقل ،بالغ اور مقیم ہو اور اس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا چاندی کے نصاب کے بقدر نقدی یا   ضرورت سے زائد سامان موجود ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق    اگرسائل  اس کا بھائی  اور والد صاحب نصاب  نہ ہو ں  تو  قربانی واجب نہیں ۔البتہ بیوی کے پاس ڈیڑھ تولہ سونے کے ساتھ اگر 42تولہ چاندی  یا اس کی قیمت کے برابر نقد رقم بھی ہو تو اس صورت میں اس پر قربانی واجب ہے اور اگر صرف ڈیڑھ تولہ سونا ہی ہے تو  اس پر بھی  قربانی واجب نہیں ۔تاہم   بھائیوں کا پیسے ا کٹھا کر کے والد  کو قربانی کے لیے دینا جائز ہے والد نفلی قربانی  کر کے اس کا ثواب سب کو پہنچا سکتا ہے۔

 

(وأما) (شرائط الوجوب) : ‌منها ‌اليسار ‌وهو ‌ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة... والموسر ‌في ‌ظاهر ‌الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها. (الفتاوى الهندية ، كتاب الأضحية، الباب الأول في تفسير الأضحية و ركنها، ج:٥،ص:٢٩٢)

‌ثم ‌اختلف ‌أصحابنا ‌في ‌كيفية الضم فقال أبو حنيفة: يضم أحدهما إلى الآخر باعتبار القيمة، وقال أبو يوسف ومحمد: يضم باعتبار الأجزاء وهو رواية عن أبي حنيفة أيضا ذكره في نوادر هشام.( بدائع الصنائع ، كتاب الزكوة، فصل في مقدار الواجب،ج:٢،ص:٤١٢)


فتویٰ نمبر : 10020/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور