بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

My 5 Family Sharing Pakge کا شرعی حکم


سوال

 زونگ سم والوں کا ایک پیکج آیا ہے جو ستا ئیس سو کا لگتا ہے جس میں انٹرنیٹ اور زونگ منٹ وغیرہ ملتے ہیں اس پیکج میں چار بندوں کو مزید ایڈ کر سکتا ہے یعنی ایک بندہ  پیکج لگا  لیتا ہے اور اپنے ساتھ  چار بندوں سے پیسے لے کر ان  کو ایڈ  کر سکتا ہے ، اور مشترکہ طور پر  پیکج استعمال کرسکتے ہیں ،جب کہ یہ  دو سو جی بی ہوتا ہے اس میں کوئی کم  استعمال کرتا ہے کوئی زیادہ  ،تو کیا ایسا پیکج لگانا جائز ہے دوسری صورت اگر ہر ایک اجازت دے دے ہر ایک کو کہ میری طرف سے اجازت ہے اگرکوئی زیادہ استعمال کرتا ہے تو کیا کر سکتا ہے ؟اس اجتماعی پیکج کے بارے میں راہنمائی فرمائیں اس پیکج کا نام  My 5 Family Sharing Pakge ہے۔

جواب

جب متعدد افرادپیسے جمع کرکے مشترکہ طور پر کوئی چیز خرید لیں اور مشترکہ  طور پر استعمال کرتے ہوں  تو اس کو "نہد" کہا جاتا ہے،شریعت نے اس کو جائز  قراردیا  ہے،دور نبوی ﷺ سے مسلمانوں کا اس پر  تعامل چلاآرہاہے،صورت مسؤلہ  كے مطابق اگر چند افراد اجتماعی پیسوں سے مشترکہ موبائل پیکج  کروالیں ،اور پھر  مشترکہ طور پر اسے استعمال کریں جس کوکوئی کم  کوئی زیادہ استعمال کرتا   ہو تو شرعا  یہ جائز ہے ۔

 

هذا باب في بيان حكم الشركة في الطعام، وقد عقد لهذا باب مفردا مستقلا يأتي بعد أبواب، إن شاء الله تعالى. قوله: (والنهد) ، بفتح النون وكسرها وسكون الهاء وبدال مهملة، قال الأزهري في (التهذيب) : النهد إخراج القوم نفقاتهم على قدر عدد الرفقة، يقال: تناهدوا، وقد ناهد بعضهم بعضا. وفي (المحكم) : النهد العون، وطرح نهده مع القوم أعانهم وخارجهم، وقد تناهدوا أي: تخارجوا، يكون ذلك في الطعام والشراب، وقيل: النهد إخراج الرفقاء النفقة في السفر وخلطها، ويسمى بالمخارجة، وذلك جائز في جنس واحد وفي الأجناس، وإن تفاوتوا في الأكل، وليس هذا من الربا في شيء، وإنما هو من باب الإباحة...قوله: (لما لم ير المسلمون) اللام فيه مكسورة والميم مخففة، هذا تعليل لعدم جواز قسمة الذهب بالذهب والفضة بالفضة مجازفة، أي: لأجل عدم رؤية المسلمين بالنهد بأسا، جوزوا مجازفة الذهب بالفضة لاختلاف الجنس، بخلاف مجازفة الذهب بالذهب والفضة بالفضة لجريان الربا فيه، فكما أن مبني النهد على الإباحة، وإن حصل التفاوت في الأكل، فكذلک مجازفة الذهب بالفضة وإن كان فيه التفاوت بخلاف الذهب بالذهب والفضة بالفضة، لما ذكرنا. (عمدة القاري شرح البخاري،ج:13،ص:60)

إنها ليس من باب المعاوضات التي تجري فيه المماكسة أو تدخل تحت الحكم وإنما هي من باب التسامح و التعامل ،و كيف تكون خلاف الإجماع مع انه قد جرى به التعامل من أول عهد النبوة إلى يومنا هذا.(فيض الباري شرح صحيح البخاري،ج:3،ص:342)


فتویٰ نمبر : 5828/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور