بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بذریعہ فون ایجاب وقبول کرنا


سوال

لڑکا لڑکی فون پر بات کرتے ہوئےمذاق میں اللہ کو گواہ بن کر ایجاب وقبول کر لیں نکاح کی نیت نہیں تھی اور نہ کوئی گواہ پاس تھابعد میں لڑکی کی شادی گھر والوں نے کہیں اور كرادی، شادی کو سال ہو گیا  شادی کے بعد جب لڑکے کو متارکت (چھوڑنے)کا پتہ چلا تو اس نےفون پر ہی متارکت کے الفاظ کہہ  دیے تب لڑکی حیض میں تھی  ایسی صورت حال میں کیا لڑکی پر عدت ہے یا نہیں ؟کیا  لڑکی کی جدھر شادی ہوئی ہےکیا وہ جائزہے؟یا اس لڑکے  کے ساتھ  پھر سے نکاح کرنا ضروری ہے جس کے ساتھ گھر والوں نے شادی کرائی ہے۔

جواب

نکاح کے منعقد ہونے کے لیے مجلسِ عقد میں کم از کم دو مسلمان عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کا گواہ ہونا ضروری ہے۔ صرف اللہ تعالی کی ذات کو گواہ بنانا کافی نہیں۔

 صورت مسؤلہ کے مطابق  لڑکا،لڑکی کا  بغیر گواہوں کی موجودگی  کے محض فون  پر ایجاب وقبول کرنے سے  نکاح نہیں  ہواہے؛ اس لیے  اس کے بعد لڑکی کی جس جگہ شادی ہوئی، وہ نکاح شرعاً معتبر ہے دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں۔

 

 (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر...ومن شرائط الإيجاب والقبول إتحاد المجلس...(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا).وقال ابن عابدين تحت قوله (اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب.(الدر المختار مع ردالمحتار،كتاب النكاح،4/76.68)

ومنها أن یکون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتی لو اختلف المجلس بأن کانا حاضرين ،فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل یوجب اختلاف المجلس لا ینعقد، وکذا إذا کان أحدهما غائبًا لم ینعقد.(الفتاویٰ الهندیة،كتاب النكاح،الباب الباب الأول في تفسيره،1/334)


فتویٰ نمبر : 6918/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور