بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رحمٰن اللہ اور صمد اللہ نام رکھنا


سوال

رحمٰن اللہ اور صمد اللہ نام رکھنا کیسا ہے؟یعنی اللہ کے د و ناموں کو ملا کر کسی کا نام رکھنا۔نیز اگر کسی کا نام عبد الرحمٰن یا عبد الرحیم ہوتو اس کو رحمٰن یا رحیم کے ساتھ پکارنا کیسا ہے؟

جواب

اللہ تعالی ٰکے  اسماء حسنی ٰمیں سے بعض صفاتی نام ایسے ہیں جن کی صفتیں اللہ تعالی ہی کے ساتھ مخصوص ہیں اور کوئی انسان ان صفات کے ساتھ کسی بھی درجہ میں متصف  نہیں  ۔مثلا:الرّحمن،القدّوس،الجبار،الرزاق،اورالغفاروغیرہ،جب کہ بعض صفاتی نام ایسے بھی ہیں کہ فی نفسہ وہ صفتیں بندوں میں بھی پائی جاتی ہیں ،اگرچہ اللہ کی صفت اوربندوں میں پائی جانے والی اس وصف کے درمیان کوئی نسبت ہی نہیں ،مثلا:علی ،کبیر،سمیع،رؤف،وغیرہ کہ ہرانسان کسی نہ کسی درجہ میں بلند،سننے والا ،مہربان وغیرہ ہے ۔اول الذکر جیسے صفاتی ناموں کے ساتھ کسی بندے کوعبد وغیرہ کی اضافت کے بغیر موسوم کرنااگر اس عقیدے کے ساتھ ہو کہ یہ بندہ (نعوذباللہ )واقعی اللہ کی اس صفت کاحامل ہے یہ کفر ہوگااور اگراس عقیدہ کے بغیر ہو تومکروہ تحریمی اور گناہ شدیدہے ،لہذاایسے صفاتی ناموں کے ساتھ کسی بندے کوموسوم کرتے اور پکارتے وقت عبدیااس جیسی کوئی مناسب اضافت لگاناضروری ہے۔جب کہ مؤخرالذکر صفاتی نام بندوں کے بھی رکھے جاسکتے ہیں اورجن صفاتی  ناموں کے بارے میں علم نہ ہو کہ یہ پہلے قبیل سے ہے یادوسرے سے ،توایسے نامو ں میں احتیاط یہی ہے کہ بندوں کے لئے ایسے نام عبدیا اس جیسے کسی مناسب اضافت کے بغیر استعمال نہ کئے جائیں ۔

لہذا صورت مسئولہ میں  رحمٰن اللہ اور صمد اللہ نام رکھنا درست نہیں  اور عبد الرحمٰن کو رحمٰن پکارنے میں بے ادبی ہے اور  ان صفات میں شرک کا اندیشہ ہے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔جبکہ عبد الرحیم  کو رحیم پکار سکتے ہیں کیونکہ یہ اسم  غیر اللہ کے لیے بھی استعمال ہواہے۔

 

والتسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة لأنه من الأسماء المشتركة ويراد في حق العباد غير ما يراد في حق الله تعالى كذا في السراجية.أحب الأسماء إلى الله تعالى عبد الله وعبد الرحمن ‌لكن ‌التسمية ‌بغير ‌هذه ‌الأسماء في هذا الزمان أولى لأن العوام يصغرون هذه الأسماء للنداء.......وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط.(الفتاوي الهندية ، كتاب الكراهية ،الباب الثانی والعشرون فی تسمية الاولاد وکناهم والعقيقة۔ج:5،ص:418)

"ومما يمنع تسمية الإنسان به أسماء الرب تبارك وتعالى فلا يجوز التسمية بالأحد والصمد ولا بالخالق ولا بالرازق وكذلك سائر الأسماء المختصة بالرب تبارك وتعالى ولا تجوز تسمية الملوك بالقاهر والظاهر كما لا يجوز تسميتهم بالجبار والمتكبر والأول والآخر والباطن وعلام الغيوب".(تحفة المودود بأحكام المولود، الْباب الثامن فی ذكر تسْميته وأحكامها ووقتها---، الْفصْل الثّاني فيما يسْتحب من الْأَسْماء وما يكره منْها، ص:125)


فتویٰ نمبر : 5790/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور