بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
نہری اوربارشی زمین میں عشر کا حکم
سوال
ہمارے علاقے میں دو قسم کی زمینیں ہیں ایک بارانی کہلاتی ہیں اور یہ بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہیں جب کہ دوسری زمین نہری کہلاتی ہیں ان زمینوں کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ یہ نہر کے پانی سے سیراب ہوتی ہیں لیکن نہر کے پانی کا زمین تک پہنچانے میں کافی مشقتیں جھیلنی پڑتی ہیں اسی طرح کبھی نمبر رات کو آتا ہے جس کی وجہ سے ساری رات نیند قربان کرنے کی مشقت کرنا پڑتی ہے نیز پورا سال زمین پر کھاد ، تخم ،دوائیوں وغیرہ کا بھاری خرچہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے ایسے حالات کے تناظر میں ان نہری زمینوں میں عشر واجب ہوگا یا نصف عشر برائے مہربانی تسلی بخش جواب دے ؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے اگر کوئی زمین بارش یا قدرتی چشموں سے سیراب ہوتی ہو تو اس کی پیداوار میں عشر واجب ہوتا ہے اور اگر نہر،رہٹ،ٹیوب ویل،جنریٹر،شمسی پلانٹ وغیرہ یا کسی دوسرےایسے ذریعے سے سیراب ہو جس میں کافی مشقت ہو تو ایسی زمین کی پیداوار میں نصف عشر واجب ہوگا۔
صورت مسئولہ میں جب زمین نہری ہے اور اسے سیراب کرنے میں کافی محنت ومشقت اور خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے تو اس کی پیداوار میں نصف عشر واجب ہے ۔
وما سقي بغرب أو دالية أو سانية ففيه نصف العشر على القولين " لأن المؤنة تكثر فيه وتقل فيما يسقى بالسماء أو سيحا وإن سقي سيحا وبدالية فالمعتبر أكثر السنة كما مر في السائمة۔الهداية،كتاب الزكوة الزرع والثمار،ج:1،ص218)
وما سقي بالدولاب والدالية ففيه نصف العشر، وإن سقي سيحا وبدالية يعتبر أكثر السنة فإن استويا يجب نصف العشر۔ (الفتاوي الهندية ،كتاب الزكوة ،الباب السادس في زكاة الزرع والثمار ،ج1،ص186)