بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تدفین کے بعد متعدد مرتبہ دعا کرنا


سوال

کوئٹہ شہر کے مضافات میں تدفین کے بعد تین مرتبہ ، پانچ مرتبہ اور کبھی کبھار سات مرتبہ اجتماعی دعا کرائی جاتی  ہے ۔کیا شریعت میں اس کا ثبوت موجود ہے؟

جواب

واضح رہے کہ میت کی تدفین کے بعد جو عمل  احادیث مبارکہ سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضورﷺ  جب تدفین سے فارغ ہوتے توقبر پر کھڑے ہوتے اور فرماتے اپنے بھائی کے لیے استغفار کرواس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو ، کیوں کہ اس سے اب سوال کیا جائے گا ۔ تاہم  احادیث مبارکہ میں  اجتماعی طور پر  متعدر بار دعا کرنے کا ثبوت موجود نہیں ، لہذا  اس کو سنت سمجھ  کر اہتمام کرنا ٹھیک  نہیں ہے ۔تاہم اگر میت کے فائدے  کی خاطر اجتماعی طور پر مغفرت  کی دعا کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔البتہ محض رسم اور عادت کے طور پر کرنے سے اجتناب کریں ۔

 

عن عثمان بن عفان، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم، ‌إذا ‌فرغ ‌من ‌دفن الميت وقف عليه، فقال: «استغفروا لأخيكم، وسلوا له بالتثبيت، فإنه الآن يسأل»( سنن أبي داود، كتاب الجنائز، باب الاستغفار عند القبر فى وقت الانصراف ، رقم الحديث :٣٢٢١)

وإذا ‌أراد ‌الدعاء يقوم مستقبل القبلة كذا في خزانة الفتاوى.( الفتاوى الهندية، الباب السادس عشر  في زيادة القبور .. ج،٥،ص:٣٥٠)


فتویٰ نمبر : 5829/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور