بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد کے تہہ خانے میں کمپوٹر لیب بنانے کا حکم


سوال

ایک جامع مسجد ہے ،جسکی اول تعمیر 1950ء اور 1960ء کے درمیان ہوئی ہے،اور مستقل وقف شدہ ہے ،پھر اس کی دوبارہ تعمیر 1996،97 میں  ہوئی اور اس میں کچھ توسیع ہوا جو دو منزلہ تعمیر ہے ۔پھر ایک بھائی صاحب نے اس میں تہہ خانہ بنانے کا ارادہ کیا 2023ء کے درمیان سال میں،تاکہ مسجد میں نمازیوں کی گنجائش زیادہ ہو اور ایک چھت بھی زیادہ ہو،تو متولی مسجد نے  ان کو اجازت دی۔اور ابھی 2024ء کے مئی یا جون میں اس کا کام مکمل ہو جائے گا لیکن وہ شخص اب بار بار کہتا ہے کہ اس  تہہ خانے میں کمپیوٹر کی کلاسیں ہونگی اور کبھی کہتا ہے کہ اس میں لڑکیوں کا مدرسہ ہوگا۔کیا شرعاً  ایسی وقف شدہ مسجد جسے واقف اول نے بلا کسی شرط وقف کیا ہواور تعمیر ثانی جب ہوئی تھی تو اس وقت بھی کوئی شرط نہیں لگائی تھی ،اب یہ تیسرا شخص جو ارادہ رکھتا ہے کہ اس میں کمپیوٹر وغیرہ کی کلاسیں ہونگی ،توکیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟کمپیوٹر کلاس سے مراد کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ ہے جس میں باقاعدہ کمپیوٹر  کورسز  پڑھائے جائیں گے،جس کی وجہ سے اس ہال میں نماز پڑھنے کی گنجائش باقی نہ ہوگی ۔اور یہ  کمپیوٹر سنٹر ایک (این ،جی،او) کے تحت چلایا جائے گا ۔

جواب

واضح رہے  کہ جو جگہ مسجد کے لیے وقف کر دی جائے،تو اس کا استعمال  اسی مسجد کے مصالح و مقاصدتک محدود رہے گا۔کیونکہ کوئیجگہ  جب مسجد  شرعی بن  جاتی ہے  تو  وہ    تحت الثری  سے لے کر  آسمان  تک  مسجد   کے حکم  میں شمار  ہوتی ہے  ، چنانچہ   بعد  میں مسجد  کے نیچے  نماز  کے علاوہ  کسی اور مقصد  کے لیے  تہہ خانہ  بنانا جائز نہیں ، البتہ نماز کے لیے تہہ خانہ بنانے میں کوئی حرج نہیں ۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص پہلے سے وقف شدہ   مسجد میں  تہہ خانہ تعمیر کرے تو اس کو عبادت کے علاوہ دیگر مقاصد، جیسے:انسٹیٹیوٹ وغیرہ کے طور پر استعمال کرنا جائز نہیں۔   

 

(وإذا جعل تحته سردابا لمصالحه) أي المسجد (جاز) كمسجد القدس (رد المحتار على الدر المختار،کتاب الوقف، مطلب فی أحکام  المسجد،ج:6،ص:547)

وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18]۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الوقف، مطلب فی أحکام المساجد،ج:6،ص:547 )

قِيم المسجد لا يجوز أن يبنى حوانيت في حد المسجد،أو في فنائه؛لأن المسجد إذا جعل حانوتاً ومسكناً تسقط حرمته،وهذا لا يجوز،والفناء تبع المسجد،فيكون حكم المسجد.(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،الباب الحادي عشر في المسجد،ج:2،ص:462)


فتویٰ نمبر : 5791/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور