بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

استطاعت کے باوجود نکاح نہ کرنا


سوال

اگر کوئی شخص نکاح  کی استطاعت رکھنے کے باوجود نکاح نہ کرتا ہو، تو شریعت مطہرہ میں ایسے شخص کا کیا حکم ہے ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے نکاح  سنت عمل ہے۔انسانی نسل کی افزائش اور گناہوں سے بچنے کا مشروع طریقہ اور ذریعہ ہے، البتہ لوگوں کی طبعی حالت اور معاشی کیفیت کے لحاظ سے ہر شخص کے لیے اس کے مناسب حکم ہوتا  ہے۔ جو شخص نفقہ اور مہر کی ادائیگی کی قدرت رکھتا ہو اور زنا میں پڑنے کا اندیشہ ہو، یا بد نظری اور دواعی زنا میں مبتلا ہونے کا یقین ہو، تو ایسی صورت میں نکاح کرنا واجب ہے۔ اور جس شخص کو گناہ میں مبتلا ہونے کا  خوف نہ ہو،جبکہ  نفقہ و مہر ادا کر سکتا ہو، تو اس کے لیے سنت ہے ۔ اورجو  حقوق کی ادائیگی (نفقہ، مہر وغیرہ) سے عاجز ہو تو اس کے لیے مکروہ ہے۔

لہذا اگر کوئی شخص نکاح پر قدرت کے باوجود ساری عمر نکاح نہیں کرتا تو وہ تارکِ سنت ہوگا،اس لیے حسبِ وسعت اسباب میسر آنے کی صورت میں نکاح کرنا چاہیے۔ یہ ایمان کی تکمیل اور پاک دامنی کے حصول کا ذریعہ ہے، اور نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔

 

(ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض، نهاية. وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه، بدائع. (و) يكون (سنة) مؤكدة في الأصح فيأثم بتركه ويثاب إن نوى تحصينا وولدا (حال الاعتدال) أي القدرة على وطء ومهر ونفقة. ورجح في النهر وجوبه للمواظبة عليه والإنكار على من رغب عنه (ومكروها لخوف الجور) فإن تيقنه حرم ذلك. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، ج: 4، ص: 63-66 )


فتویٰ نمبر : 6902/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور