بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

داماد کو صدقات واجبہ دینا


سوال

میراداماد کا فی  غریب  آدمی ہے  کیا میں اس کو  صدقات واجبہ (زکوۃ،عشر،صدقہ) دے سکتا ہوں نیز وہ اس رقم کو اپنی بیوی اور بچوں پر خرچ کر سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

صدقات  واجبہ  اپنے اصول وفروع کے علاوہ کسی اور رشتہ دار  کو  دینا نہ صرف جائز ،بلکہ افضل  ہے ۔

لہذاصورت مسئولہ کے   مطابق اگرسا ئل  کا داماد صاحب نصاب   نہ ہو  تو اس کو صدقات  واجبہ (زکوۃ،    عشر)وغیرہ  دینا  جائز ہے ۔ رقم ملنے کے بعد وہ رقم اس   کی ملکیت میں آجاتی ہے،اس  لیےاس کومکمل اختیار ہے  کہ  جہاں بھی اس رقم  کو خرچ کرنا چاہے ،خرچ کر سکتا  ہے۔

 

ويجوز ‌دفعها ‌لزوجة أبيه وابنه وزوج ابنته۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الزكوة،باب المصرف۔ج:3،ص:293)

والأفضل ‌صرفها للأقرب فالأقرب من كل ذي رحم محرم منه ثم لجيرانه ثم لأهل محلته ثم لأهل حرفته ثم لأهل بلدته۔ (مراقي الفلاح شرح نورالإيضاح،كتاب الزكوة،باب المصرف،ص411)


فتویٰ نمبر : 9962/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور